نُورِ ہدایت — Page 637
ان کو فائدہ ہوسکتا ہے تو ایک حقیقی مومن جس کو خاص طور پر خدا تعالیٰ نے تاکید فرمائی ہے اس کو کس قدر فائدہ ہوگا کہ اپنے کام کے انجام پر نظر رکھے اور ہمیشہ یہ یادرکھے کہ علیم وقد یر خدا میرے ہر کام اور ہر عمل کو دیکھ رہا ہے اور اسی وجہ سے میں نے اپنے ہر کام کو اس کی رضا کے لئے کرنا ہے۔اگر یہ سوچ نہیں ہوگی، خدا تعالیٰ کو بھول جاؤ گے تو پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فاسقوں میں شمار ہو گے۔پس اللہ تعالیٰ نے یہاں فاسق کہہ کر ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کو واضح کر دیا کہ اگر تقویٰ پر نہیں چلتے۔اپنے کل کی فکر نہیں کرتے۔اللہ تعالیٰ کے حکموں پر نہیں چلتے تو پھر فاسقوں میں شمار ہوگا اور فاسق وہ ہیں جو خدا تعالیٰ کی قائم کردہ حدود کو توڑنے والے ہیں۔جو گناہوں میں مبتلا رہنے والے ہیں۔جو اطاعت سے نکلنے والے ہیں۔جو سچائی سے دُور ہٹنے والے ہیں۔پس اگر ہم اپنے جائزے نہیں لیتے ، اپنے کاموں کو اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے معیار پر پرکھنے کی کوشش نہیں کرتے تو بڑے خوف کا مقام ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الاول اس حصہ کی وضاحت فرماتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ایسے لوگوں کی طرح مت ہو جاؤ جن کی نسبت فرمایا کہ نَسُوا اللهَ فَأَنْسَهُمْ أَنْفُسَهُمْ أوْلَئِكَ هُمُ الْفُسِقُونَ۔یعنی جنہوں نے اس رحمت اور پاکی کے سر چشمہ قدوس خدا کو چھوڑ دیا اور اپنی شرارتوں، چالاکیوں، ناعاقبت اندیشیوں، غرض قسم قسم کے حیلہ سازیوں اور رو بہ بازیوں سے کامیاب ہونا چاہتے ہیں۔“ ( رو بہ بازیوں کا مطلب ہے جو لومڑیوں کی طرح چالاکیاں کرتے ہیں۔اردو میں محاورہ ہے لومڑی کی طرح بڑا چالاک ہے۔) پھر آپ فرماتے ہیں کہ مشکلات انسان پر آتی ہیں۔بہت سی ضرورتیں انسان کو لاحق ہیں۔کھانے پینے کا محتاج ہوتا ہے۔دوست بھی ہوتے ہیں۔دشمن بھی ہوتے ہیں مگر ان تمام حالتوں میں متقی کی یہ شان ہوتی ہے کہ وہ خیال اور لحاظ رکھتا ہے کہ خدا سے بگاڑ نہ ہو (یعنی خدا تعالیٰ کو ہر وقت یا درکھتا ہے اور وہ اسے دوستوں پر بھی اور فائدہ مند چیزوں پر بھی مقدم رہتا ہے۔) 637