نُورِ ہدایت — Page 626
وجود نہیں رہتا ، اللہ کے وجود میں کھویا جاتا ہے، تو یہ تقویٰ کا کمال ہے اور اصل میں یہی توحید ہے۔جب اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو وہ حقیقی تو حید کا ماننے والا کہلاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہر چیز پر مقدم کر لینا یہی تقویٰ ہے اور یہی تو حید پر قائم ہونا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں یہ معیار حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ه مه ای اس اس د الله مرور 20 می 2013 - خطبات مسرور جلد 1 سحر 26 -269) حضرت خلیفۃ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سورۃ الحشر کی آیات 19 اور 20 کی تلاوت کے بعد فرمایا: یہ سورہ حشر کی دو آیات ہیں جن کا ترجمہ اس طرح پر ہے کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور ہر جان یہ نظر رکھے کہ وہ کل کے لئے کیا آگے بھیج رہی ہے۔اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔یقینا اللہ اس سے جو تم کرتے ہو ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں خود اپنے آپ سے غافل کر دیا۔یہی بدکردار لوگ ہیں۔عموماً دیکھا جاتا ہے کہ ہر برائی اور گناہ کی جڑ ان برائیوں اور گناہوں کو معمولی سمجھتے ہوئے ان سے بچنے کی کوشش نہ کرنا ہے یا ان پر توجہ نہ دینا ہے لیکن یہی بے احتیاطی پھر انسان کو بڑے گناہوں میں مبتلا کر دیتی ہے کیونکہ پھر انسان آہستہ آہستہ نیکیوں کو بھول جاتا ہے نیکی کے ان معیاروں کو بھول جاتا ہے جو ایک مومن کو حاصل کرنے چاہئیں۔اللہ تعالیٰ کا خوف کم ہوجا تا ہے۔تقویٰ سے دوری ہو جاتی ہے۔مرنے کے بعد کی زندگی پر کامل ایمان نہیں رہتا۔گویا کہ ایک ایمان کا دعویٰ کرنے والا عملاً ایمان کی شرائط سے دُور ہٹتا چلا جاتا ہے اور اللہ تعالی کی نظر میں پھر مومن نہیں رہتا۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اسی طرف مومنوں کی توجہ دلائی ہے۔اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بڑا زور دے کر فرمایا کہ صرف آج کی اور اس دنیا کی لہو ولعب کی دلچسپیوں کی ، آراموں اور آسائشوں کی یا عزیزوں رشتہ داروں اور دوستوں سے تعلقات کی فکر نہ 626