نُورِ ہدایت — Page 618
بندوں کے حق ادا کرنے سے بھی دور لے جاتا ہے۔ان ملکوں میں شرابیں، جوا، انٹرنیٹ، گندی اور لغو فلمیں ہیں، غلط دوستیاں ہیں۔یہ جہاں گھروں کو اُجاڑ رہی ہوتی ہیں وہاں نوجوانوں کو غلط راستے پر ڈال کر خدا تعالیٰ کی ذات پر ایمان سے بھی ہٹا کر معاشرے کا ناسور بنا رہی ہوتی ہیں۔وہ لوگ ایک مستقل بیماری بن رہے ہیں۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے ہر عضو کا اور ہر سوچ کا اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق اور بر محل استعمال تمہیں تقویٰ میں بڑھائے گا اور اس کے خلاف عمل تمہیں شیطان کی گود میں پھینک دے گا اور جو شیطان کی گود میں گرتا ہے وہ یقیناً نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوتا ہے۔ان آیات میں، جن کا ترجمہ بھی آپ نے سن لیا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد تقوی اختیار کرو۔اے مومنو جو ایمان لائے ہو، اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔یہ دنیا اور اس کی رنگینیاں اور آسانیاں اور آسائشیں تمہارا سب کچھ نہ ہوں، بلکہ یہ دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر تم نے کیا عمل کئے ہیں؟ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر کئے گئے عمل ہی ہیں جو اگلے جہان میں کام آنے ہیں یا اگلے جہان میں کام آتے ہیں۔دنیا کی تمام رنگینیاں اور مزے اور لذتیں اور آسائشیں اسی دنیا میں رہ جاتی ہیں۔پس اپنے جائزے لیتے رہو۔کیونکہ گناہوں کی جڑ یہی ہے کہ انسان اپنے عملوں سے لا پرواہ ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کو بھول جاتا ہے۔پس اگر اگلے جہان کی دائمی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے ان انعامات کا وارث بننا ہے تو خدا تعالیٰ پر کامل ایمان رکھتے ہوئے اُس کی رضا کی راہوں کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔اپنے مقصد پیدائش کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔یہ پہلی آیت جو میں نے پڑھی تھی، یہ نکاح پر پڑھی جانے والی آیتوں میں سے بھی ایک آیت ہے۔اللہ تعالیٰ اس میں جہاں انسان کو خود آئندہ زندگی کی فکر کی طرف توجہ دلا رہا ہے، وہاں آئندہ پیدا ہونے والی نسل کی تربیت اور اُن کو دنیا کے بجائے نیکیوں میں آگے بڑھنے کی طرف توجہ دلانے کا بھی ارشاد فرما رہا ہے۔خاص طور پر جو آیات نکاح میں پڑھی جانے والی ہیں یہ اُن میں سے ایک آیت ہے۔کیونکہ نیک اولاد، اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل 618