نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 616 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 616

قومی اور اعضاء ہیں، جن میں ظاہری طور پر آنکھیں اور کان اور ہاتھ اور پیر اور دوسرے اعضاء ور باطنی طور پر دل اور دوسری قوتیں اور اخلاق ہیں، ان کو جہاں تک طاقت ہو، ٹھیک ٹھیک محل ضرورت پر استعمال کرنا اور نا جائز مواضع سے روکنا اور ان کے پوشیدہ حملوں سے متنبہ رہنا اور اسی کے مقابل پر حقوق العباد کا بھی لحاظ رکھنا، یہ وہ طریق ہے کہ انسان کی تمام روحانی خوبصورتی اس سے وابستہ ہے۔“ ( ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 209-210) پس یہ وہ معیار ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں بیان فرمایا اور اس کی ہم سے توقع بھی کی۔چند جمعے پہلے بھی میں نے امانتوں اور عہدوں کا حق ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی تھی کہ ان کی ادائیگی ایمان سے وابستہ ہے اور عہدیداروں کے حوالے سے باتیں ہوئی تھیں۔آج میں اس کی کچھ مزید بات کرتا ہوں۔آج کے اس دور میں ایمان لانے والوں میں سے احمدی وہ خوش قسمت ہیں جن کو اس باریکی سے خدا تعالیٰ سے تعلق کی طرف توجہ دلائی گئی۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہم پر احسان ہے کہ کھول کھول کر ان اعلیٰ مدارج کے راستے دکھاتے ہیں جن سے ایک مومن خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکتا ہے۔یقیناً ہر انسان کا معیار، نیکی کا معیار بھی، فراست کا معیار بھی سمجھ کا معیار بھی علم کا معیار بھی مختلف ہوتا ہے، ہر ایک کا معیار ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔اس لئے ہر ایک کو یہ حکم ہے کہ اپنی استعدادوں اور صلاحیتوں کی انتہا تک اللہ تعالیٰ سے کئے گئے عہد اور اُس کی امانتوں کی ادائیگی کو پہنچاؤ۔اگر کوشش کر کے ہر مومن یہ انتہا حاصل کرنے کی طرف متوجہ رہے گا تو تقویٰ کی راہوں پر چلنے والا شمار ہوگا۔ہاتھ، پیر، کان، آنکھ کا استعمال ہے تو ان کے صحیح استعمال کا حکم ہے۔جن باتوں کے کرنے سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے، اُن سے رُکنا فرض ہے۔یہ ظاہری اعضاء صرف مخلوق کے حق کی ادائیگی کے لئے نہیں ہیں کہ ان سے مخلوق کا حق ادا کرو، یا اگر حق ادا نہیں کرتے ، عدم ادائیگی ہے تو تم پوچھے جاؤ گے۔بلکہ بہت سے ایسے کام ہیں جن کا مخلوق سے براہ راست تعلق نہیں ہوتا اور اُن سے مخلوق کو کوئی نقصان یا فائدہ بھی 616