نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 611 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 611

کرتے ہیں۔ایسا کرنے سے رزق حلال نہیں رہتا۔اللہ تعالیٰ سب کو تقویٰ کی توفیق دے۔الحکم نمبر 19، 20 جلد 15 مورخہ 21، 28 مئی 1911 ، صفحہ 26) وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللهَ فَأَنْسَهُمْ أَنْفُسَهُمْ - أُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ایسے لوگوں کی طرح مت ہو جاؤ جن کی نسبت فرمایا - نَسُوا اللَّهَ فَأَنْسَاهُمْ أَنْفُسَهُمْ۔یعنی جنہوں نے اس رحمت اور پاکی کے سرچشمہ قدوس خدا کو چھوڑ دیا اور اپنی شرارتوں ، چالاکیوں ، ناعاقبت اندیشیوں، غرض قسم قسم کی حیلہ سازیوں اور رو بہ بازیوں سے کامیاب ہونا چاہتے ہیں۔مشکلات انسان پر آتی ہیں۔بہت سی ضرورتیں انسان کو لاحق ہیں۔کھانے پینے کا محتاج ہوتا ہے۔دوست بھی ہوتے ہیں۔دشمن بھی ہوتے ہیں۔مگر ان تمام حالتوں میں منتقی کی یہ شان ہوتی ہے کہ وہ خیال اور لحاظ رکھتا ہے کہ خدا سے بگاڑ نہ ہو۔دوست پر بھروسہ ہو ممکن ہے کہ وہ دوست مصیبت سے پیشتر دنیا سے اُٹھ جاوے یا اور مشکلات میں پھنس کر اس قابل نہ رہے۔حاکم پر بھروسہ ہوتو ممکن ہے کہ حاکم کی تبدیلی ہو جاوے اور وہ فائدہ اس سے نہ پہنچ سکے۔اور اُن احباب اور رشتہ داروں کو جن سے امید اور کامل بھروسہ ہو کہ وہ رنج اور تکلیف میں امداد دیں گے۔اللہ تعالیٰ اس ضرورت کے وقت ان کو اس قدر ڈ ورڈال دے کہ وہ کام نہ آسکیں۔پس ہر آن خدا سے تعلق نہ چھوڑنا چاہئے جو زندگی موت کسی حالت میں ہم سے جدا نہیں ہوسکتا۔پس خدا تعالی فرماتا ہے کہ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے خدا سے قطع تعلق کر لیا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم دُکھوں سے محفوظ نہ رہ سکو گے اور سکھ نہ پاؤ گے بلکہ ہر طرف سے ذلت کی مار ہوگی اور ممکن ہے کہ وہ ذلت تم کو دوستوں ہی کی طرف سے آ جاوے۔ایسے لوگ جو خدا سے قطع تعلق کرتے ہیں وہ کون ہوتے ہیں؟ وہ فاسق فاجر ہوتے ہیں۔اُن میں سچا اخلاص اور ایمان نہیں ہوتا۔یہی نہیں کہ وہ ایمان کے کچے ہیں۔نہیں، ان میں شفقت علی خلق اللہ بھی نہیں ہوتی۔الحکم نمبر 5 جلد 3 مورخہ 10 فروری 1899 صفحہ 8-9) 611