نُورِ ہدایت — Page 600
پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہ تعلیم اس لئے تھی کہ اگر دشمن بھی ہو تو اس نرمی اور حسن سلوک سے دوست بن جائے اور ان باتوں کو آرام اور سکون کے ساتھ سمجھ لے۔پھر آپ فرماتے ہیں : ” تقویٰ کے بہت سے اجزاء ہیں۔تُحجب ،خود پسندی، مال حرام سے پر ہیز اور بداخلاقی سے بچنا بھی تقویٰ ہے۔جو شخص اچھے اخلاق ظاہر کرتا ہے اس کے دشمن بھی دوست ہو جاتے ہیں“۔پھر فرمایا: ”اب خیال کرو کہ یہ ہدایت کیا تعلیم دیتی ہے؟۔اس ہدایت میں اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ اگر مخالف گالی بھی دے تو اس کا جواب گالی سے نہ دیا جائے بلکہ اس پر صبر کیا جائے۔یہ جو آیت میں نے پڑھی ہے اس کے بارے میں ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مخالف تمہاری فضیلت کا قائل ہو کر خود ہی نادم اور شرمندہ ہوگا۔اور یہ سزا اس سزا سے بہت بڑھ کر ہو گی جو انتقامی طور پر تم اس کو دے سکتے ہو۔یوں تو ایک ذرا سا آدمی اقدام قتل تک نوبت پہنچا سکتا ہے لیکن انسانیت کا تقاضا اور تقویٰ کا منشاء یہ نہیں ہے۔خوش اخلاقی ایک ایسا جوہر ہے کہ موزی سے موذی انسان پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 68-69 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) پس یہ اعمال صالحہ کا معیار ہے جو ہم نے اپنا نا ہے۔اور اس سے تبلیغی راستے بھی کھلیں گے۔اور اس سے ہماری آپس کی رنجشیں اور کدورتیں بھی دور ہوں گی۔کیونکہ نیک نمونے دکھانے کے لئے ، احمدی معاشرے کا وقار قائم کرنے کے لئے آپس میں بھی محبت پیار سے رہتے ہوئے رنجشیں دور کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔( خطبہ جمعہ حضرت خلیفتہ است خلیفة اسم الخامس اید والله فرمود 18 رجون 2006ء - خطبات مسر درجلد چہارم صفحه 29-299) اسی طرح حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ فرمودہ 30 ستمبر 2005ء میں سورۃ حم السجدہ کی آیت 34 کی تلاوت اور ترجمہ کے بعد فرمایا: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ تم لوگ جو ایمان لے آئے ہو اور دین کی کچھ شدھ بدھ رکھتے ہو اور یہ دعویٰ کرتے ہو کہ مسلمان ہو گئے ہوا گر تم 600