نُورِ ہدایت — Page 561
کر دیا ہے ایک عید الفطر کا جس کو ہم چھوٹی عید کہتے ہیں اور ایک عید الاضحیہ کا۔(سنن ابی داود کتاب الصلوة ) انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ وقفہ وقفہ کے بعد خوشی منائے اور یہ فطرت میں اس لئے رکھا گیا ہے کہ ایک خاص زمانہ اور وقت میں انسان اللہ تعالیٰ کی عبادت میں انہماک کے بعد ایک وقتی انعام پائے اور اس انعام کی خوشی میں وہ اپنی مسرت کا اظہار کرے۔فطرت کے اندر جو خوشی منانے کا جذبہ ہے وہ مٹ نہیں سکتا تھا کیونکہ وہ فطرت کا ایک حصہ ہے لیکن اس جذبہ کے اظہار کے خدا کے بتائے ہوئے جو مواقع تھے وہ انسان ہمیشہ ہی بھولتا رہا ہے۔ہر نبی نے اپنی امت پر بعض ذمہ داریاں ڈالیں اور پھر ان کے لئے عید اور خوشی کے سامان بھی پیدا کئے وہ خوشی تو مناتے رہے اور آج تک منارہے ہیں لیکن جو ذمہ داریاں ان پر عائد کی گئی تھیں ان کو وہ بھلا بیٹھے اور جس وجہ سے خوشی منائی تھی وہ وجہ باقی ندر ہی۔ایک ظاہری چھلکا باقی رہ گیا اور روح مرگئی۔انسانی فطرت میں خوشی منانے کا یہ جذبہ اتنا راسخ ہے کہ میں نے اپنی طالب علمی کے زمانہ میں یہاں بھی اور انگلستان میں بھی یہ دیکھا ہے کہ بعض دفعہ خوشی حاصل کرنے کے اس جذ بہ کو سیر کرنے کے لئے طالب علم کہتے تھے کہ آؤ ہنسیں اور پھر وہ کسی وجہ کے بغیر قہقہے لگانے شروع کر دیتے۔کوئی وجہ نہیں ہوتی تھی اور وہ قہقہے لگارہے ہوتے تھے۔وہ ایک دوسرے کو کہتے آؤ ہنسیں اور پھر وہ بلا وجہ ہنسنے لگ جاتے تھے۔غرض دنیا میں اس قسم کی بہت ساری عیدیں ہیں کہ قہقہہ تو لگ رہا ہے لیکن وہ قہقہہ کس وجہ سے اور کیوں ہے اس قہقہہ لگانے والے کو بھی علم نہیں ہوتا۔چہرہ پر تو مسکراہٹ ہے لیکن دل میں خوشحالی کے جذبات نہیں۔وہ ا کیفیت نہیں۔حقیقی خوشی وہی ہے جس کے منانے کا اللہ حکم دے اور جس کی کیفیت پیدا کرنے کا اللہ تعالیٰ سامان پیدا کر دے۔جو آیت کریمہ میں نے ابھی تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ خوش ہو اور خوشیوں سے اپنے وجود کو بھر لو۔عید مناقَ - وَابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ کیونکہ جس خوشی اور جس جنت کا تمہیں وعدہ دیا گیا تھا وہ تمہارے لئے میسر آ گئی ہے 561