نُورِ ہدایت — Page 555
نہیں سکتا اور یہی پیارا درجہ ہے جو انہیں ملا ہوا ہے۔یعنی مکالمہ الہیہ اور رویائے صالحہ سے خدا تعالیٰ کے مخصوص بندوں کو جو اس کے ولی ہیں ضرور حصہ ملتا ہے اور ان کی ولایت کا بھاری نشان یہی ہے کہ مکالمات و مخاطبات الہیہ سے مشرف ہوں ( یہی قانونِ قدرت اللہ جل شانہ کا ہے ) کہ جولوگ ارباب متفرقہ سے منہ پھیر کر اللہ جل شانہ کو اپنا رب سمجھ لیں اور کہیں کہ ہمارا تو ایک اللہ ہی رب ہے ( یعنی اور کسی کی ربوبیت پر ہماری نظر نہیں ) اور پھر آزمائشوں کے وقت میں مستقیم رہیں ( کیسے ہی زلزلے آویں، آندھیاں چلیں، تاریکیاں پھیلیں ان میں ذرا تزلزل اور تغیر اور اضطراب پیدا نہ ہو پوری پوری استقامت پر رہیں ) تو ان پر فرشتے اترتے ہیں ( یعنی الہام یا رویائے صالحہ کے ذریعہ سے انہیں بشارتیں ملتی ہیں ) کہ دنیا اور آخرت میں ہم تمہارے دوست اور متوئی اور متکفل ہیں اور آخرت میں جو کچھ تمہارے جی چاہیں گے وہ سب تمہیں ملے گا۔یعنی اگر دنیا میں کچھ مکروہات بھی پیش آویں تو کوئی اندیشہ کی بات نہیں کیونکہ آخرت میں تمام غم دور ہو جائیں گے اور سب مراد یں حاصل ہوں گی۔اگر کوئی کہے کہ یہ کیوں کر ہوسکتا ہے کہ آخرت میں جو کچھ انسان کا نفس چاہے اس کو ملے۔میں کہتا ہوں کہ یہ ہونا نہایت ضروری ہے اور اسی بات کا نام نجات ہے۔ورنہ اگر انسان نجات پا کر بعض چیزوں کو چاہتا رہا اور ان کے غم میں کباب ہوتا اور جلتا رہامگر وہ چیزیں اس کو نہ ملیں تو پھر نجات کا ہے کی ہوئی۔ایک قسم کا عذاب ساتھ ہی رہا۔لہذا ضرور ہے کہ جنت یا بهشت یا مکتی خانہ یا سورگ جو نام اس مقام کا رکھا جائے جو انتہا سعادت پانے کا گھر ہے وہ ایسا گھر چاہیے کہ انسان کو مین گل الوجوہ اس میں مصفا خوشی حاصل ہو اور کوئی ظاہری یا باطنی رنج کی بات درمیان نہ ہو اور کسی نا کامی کی سوزش دل پر غالب نہ ہو۔ہاں یہ بات سچ ہے کہ بہشت میں نالائق اور نامناسب باتیں نہیں ہوں گی۔مگر مقدس دلوں میں اُن کی خواہش بھی پیدا نہ ہوگی بلکہ ان مقدس اور مطہر دلوں میں جو شیطانی خیالات سے پاک کئے گئے ہیں، انسان کی پاک فطرت اور خالق کی پاک مرضی کے موافق پاک خواہشیں 555