نُورِ ہدایت — Page 553
میں کیا فرق ہے۔مجھے بھی الہام ہوتا ہے۔اس خیال سے وہ بلاک کیا گیا۔اور لکھا ہے کہ قبر نے بھی اس کو باہر پھینک دیا۔جیسا کہ بلغم بلاک کیا گیا۔( ضرورة الامام ، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 473) خدا تعالیٰ کو اپنا متولی اور متکفل سمجھنا اور پھر لازمی امتحانوں اور آزمائشوں سے متزلزل نہ ہونا اور مستقیم الاحوال رہنا بھی خوف اور حزن کا علاج ہے۔(مکتوبات احمد جلد دوم صفحه 24،23) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور استقامت کی ، ان پر فرشتے اترتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ دل کو صاف کرتے ہیں اور نجاست اور گندگی سے، جو اللہ سے دُور رکھتی ہے، اپنے نفس کو دور رکھتے ہیں ان میں سلسلہ الہام کے لئے ایک مناسبت پیدا ہو جاتی ہے۔سلسلہ الہام شروع ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔پھر فرمایا و ابشروا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ یعنی تم اس جنت کے لئے خوش ہو جس کا تم کو وعدہ ہے۔رپورٹ جلسہ سالانہ 1897 صفحہ 36) م اسلام کی حقیت اور حقانیت کی اوّل نشانی یہی ہے کہ اس میں ہمیشہ ایسے راستباز جن سے خدا تعالیٰ ہمکلام ہو پیدا ہوتے ہیں۔تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا سو یہی معیار حقیقی سچے اور زندہ اور مقبول مذہب کی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ نور صرف صرف اسلام میں ہے دوسرے مذاہب اس روشنی سے بے نصیب ہیں۔الحکم جلد 5 نمبر 19 مورخہ 24 مئی 1901 ، صفحہ 4) الهام یعنی وحی الہی ایسی شے ہے کہ جب تک خدا سے پوری صلح نہ ہو اور اس کی اطاعت کے لئے اس نے گردن نہ رکھ دی ہو تب تک وہ کسی کو حاصل نہیں ہو سکتی۔خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزِّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ إِلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے۔نزول وحی کا صرف ان کے ساتھ وابستہ ہے جو کہ خدا کی راہ میں مستقیم ہیں اور وہ صرف مسلمان ہی ہیں۔( البدر جلد 4 نمبر 8 مورخہ 13 مارچ 1905 ، صفحہ 2) 553