نُورِ ہدایت — Page 505
پہلو کوڈ ور کر لیا۔( اقرب ) حمد اس میں بتایا کہ مومن اور کافر میں بڑا فرق ہے۔مسلمانوں نے متواتر تیرہ سال تک مشکلات اور مصائب برداشت کئے۔ماریں کھائیں اور عذاب سہے مگر اُف تک نہ کی لیکن ان کافروں پر جب عذاب شروع ہوگا اور مومنوں کی ترقی کے سامان ہوں گے تو یہ کفار اسی دن ہتھیار ڈال دیں گے اور نا امید ہو جائیں گے۔چونکہ کا فر کو خدا پر ایمان نہیں ہوتا اس لئے وہ ذراسی تکلیف سے بھی گھبرا جاتا ہے۔مگر مومن خدا کے لئے سب کچھ دلیری اور جرات سے برداشت کرتا ہے۔شاكلة۔اس کا مادہ شکل ہے۔اس کے معنی یہ ہیں الشكل صورت۔شکل۔النَّاحِيَةُ طرف النيَّةُ نيت الطَّرِيقَةُ طريق الْمَذْهَبُ۔راستہ مذہب۔الْحَاجَةُ۔ضرورت۔(اقرب) فرماتا ہے منکرین سے کہہ دے کہ ہر شخص اپنے اپنے طریق پر اور اپنی اپنی شکل وصورت اپنی اپنی قابلیت۔اپنے اپنے دین اور اپنی اپنی نیت کے مطابق عمل کرتا ہے۔مومن کی نیت چونکہ خدا تعالیٰ کا حصول ہوتی ہے اس لئے وہ دنیا کے چلے جانے پر گھبرا تا نہیں۔بلکہ سب ابتلاؤں کا دلیری سے مقابلہ کرتا ہے۔لیکن کافر چونکہ دنیا پرست ہوتا ہے اور اس کا سارا عمل دنیا کی خاطر ہوتا ہے جب وہ دنیا کو جاتے دیکھتا ہے تو گھبرا کر ہتھیار ڈال دیتا ہے۔فرمایا تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ کون ہدایت کی راہ پر عمل کر رہا ہے۔یعنی خدا تعالیٰ بھی اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرتا ہے۔جیسی کہ اس شخص کی نیت ہوتی ہے۔فرمایا ہم عمل کو بھی دیکھیں گے اور نیت کو بھی۔اور پھر دونوں کے مطابق معاملہ کریں گے۔جو خدا تعالیٰ کی رضا کو مد نظر رکھیں گے اور اس کے دین کے لئے قربانیاں کریں گے ان کی تائید ونصرت کی جائے گی۔(ماخوذ از تفسیر کبیر) حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العز یز فرماتے ہیں: ہمیشہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ فقرہ ہمارے ذہن میں ہونا چاہئے کہ جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے۔ہم ہمیشہ قرآن کے ہر حکم اور ہر 505