نُورِ ہدایت — Page 500
تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ (مسلم جلد اول کتاب الایمان) یعنی صحیح نماز یہ ہے کہ تو خدا تعالیٰ کو دیکھ لے۔یا کم سے کم نماز کے وقت یہ یقین ہو کہ خدا تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے۔پس اتنے بڑے انعام کو چٹی سمجھنا سخت ظلم ہے نماز اللہ تعالی کے بڑے انعامات میں سے ہے۔میرا تو یہ عقیدہ ہے کہ انسان ایک نماز بھی چھوڑے تو وہ نمازی نہیں کہلا سکتا۔کیونکہ حکم اقامة الصلوة کا ہے۔اور وہ دوام کو چاہتا ہے۔جب ایک بھی نماز چھوڑ دی گئی ہو تو دوام نہ رہا۔كافِلَةٌ لك سے اس بات کا اظہار کیا گیا ہے کہ عبادت کا موقعہ دینا ہمارا ایک احسان ہے۔یا ممکن ہے کہ تہجد کی نماز پہلے انبیاء پر واجب نہ کی گئی ہو۔اس صورت میں اس کے یہ معنی ہوں گے کہ یہ عبادت کا موقعہ خاص تیرے لئے انعام ہے۔مَقَامًا مَّحْمُودًا میں ایک بہت بڑی پیشگوئی کی گئی ہے۔دنیا میں کسی شخص کو بھی اتنی گالیاں نہیں دی گئیں جتنی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئیں ہیں۔ڈاکو، بدکار، بدمعاش، فاسق سے فاسق انسان کو ان گالیوں کے کروڑویں حصہ کے برابر بھی گالیاں نہیں دی جاتیں جتنی کہ آج تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی ہیں۔مقام محمود عطا فرما کر اللہ تعالیٰ نے ان گالیوں کا آپ کو صلہ دیا ہے۔فرماتا ہے جس طرح دشمن گالیاں دیتا ہے۔ہم مومنوں سے تیرے حق میں درود پڑھوائیں گے۔اسی طرح عرش سے خود بھی تیری تعریف کریں گے۔اس کے مقابل پر دشمن کی گالیاں کیا حیثیت رکھتی ہیں۔مقام محمود سے مراد مقام شفاعت بھی ہے کیونکہ جیسا کہ حدیثوں سے ثابت ہے۔سب اقوام کے لوگ سب نبیوں کے پاس سے مایوس ہو کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس شفاعت کی غرض سے آئیں گے اور آپ شفاعت کریں گے۔اس طرح گویا ان سب اقوام کے مونہہ سے آپ کے لئے اظہار عقیدت کروادیا جائے گا جو اس دنیا میں آپ کو گالیاں دیتی تھیں۔اور یہ ایک نہایت اعلیٰ درجہ کا مقام محمود ہے۔حمد مقام محمود سے مراد میرے نزدیک خروج مہدی بھی ہے۔کیونکہ اس کے ظہور کا وقت 500