نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 486 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 486

کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ کو اس طرح گریہ وزاری کرتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ! آپ اتنا کیوں روتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ آپ کے گزشتہ اور آئندہ ہونے والے سارے گناہ بخش چکا ہے۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کیا ئیں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔اور میں کیوں نہ روؤں کہ آج رات میرے رب نے یہ آیات نازل کی ہیں۔وہ آیات ہیں آل عمران کی۔اِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لايت لأولى الْأَلْبَابِ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِمَّا وَقَعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمُ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحْنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّار (آل عمران: 191-192) یعنی یقیناً آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں، رات اور دن کے ادلنے بدلنے میں صاحب عقل لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں۔اور اے ہمارے رب تو ہمیں آگ کے عذاب سے بھی بچانا۔پھر دوسری روایت میں اس کا ذکر اس طرح ملتا ہے کہ حضرت عائشہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ کو اتنا رونا کیوں آرہا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ ہونے والے گناہ بخش دیتے ہیں۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا ئیں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔اور میں ایسا کیوں نہ کروں جبکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اس رات اپنی یہ آیات نازل فرمائی ہیں إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَأَيْتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِمَّا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ۔رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔۔۔السد العالی فرمود یا اپریل 2010 ، خطبات مسرور جلو و مار 19 (20) حضرت خلیفۃ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے اپنی رحمانیت کے نظارے دکھاتے ہوئے تمہارے لئے یہ جو زمین و آسمان پیدا کیا ہے اس پر غور کرو۔ستارے ہیں، چاند ہے،سورج ہے، فضا میں 486