نُورِ ہدایت — Page 41
پس خلاصہ کلام یہ ہے کہ جسے شیطان رجیم کہتے ہیں اس سے وہی دجال لتیم ، خناس قدیم مراد ہے جس کا قتل کیا جانا ایک موعود امر تھا اور ایسا اہم امر تھا جو پہلے ہی مقدر ہو چکا تھا۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمام مسلمانوں پر واجب قرار دیا کہ وہ سورۃ فاتحہ اور بسم اللہ الرّحمٰنِ الرَّحِیمِ پڑھنے سے قبل اَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ پڑھیں تا کہ پڑھنے والے کے ذہن نشین رہے کہ دجال کا زمانہ اس قوم کے زمانہ سے تجاوز نہیں کرے گا جس کا ذکر ان سات آیتوں میں سے آخری آیت میں کیا گیا ہے اور اللہ کی یہ تقدیر ابتدائے زمانہ سے مقرر تھی کہ مذکور شیطان رجیم آخری زمانہ میں قتل ہوگا اور لوگ اس زہریلے اثر دبا کے ڈسنے سے امان پا جائیں گے۔پس اب زمانہ اپنے انتہائی دور میں پہنچ گیا ہے اور دنیا کی عمر سبع مثانی کی سات آیات کی طرح شمسی اور قمری حساب سے ساتویں ہزار سال میں پہنچ گئی ہے۔آج یہ شیطان رجیم ایسے گروہ کی صورت میں ظاہر ہوا ہے جو اس کے لئے بروزی لباس کی حیثیت رکھتا ہے اور گمراہی اس قوم پر ختم ہوگئی ہے جس کا ذکر سورۃ فاتحہ کے آخری الفاظ میں آیا ہے اور اس بات کو وہی سمجھ سکتا ہے جو روشن طبع ہو۔اور یہ دنبال صرف آسمانی حربہ سے ہی بلاک کیا جائے گا۔یعنی بشری طاقت سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہی قتل ہوگا۔پس نہ کوئی لڑائی ہوگی نہ مار پیٹ۔بلکہ یہ ایک ایسا امر ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے وقوع پذیر ہوگا اور یہ دجال ( شیطان ) ہر صدی میں اپنی ذریت میں سے بعض کو مقرر کرتا رہا تا مومنوں ، موحدوں، نیکوکاروں ،حق پر قائم لوگوں اور اس کے طالبوں کو گمراہ کرے اور دین کی عمارتوں کو گرا دے اور اللہ تعالی کی کتب کو پارہ پارہ کر دے۔یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ دجال آخری زمانہ میں قتل کیا جائے گا اور نیکی ہر قسم کی خرابی اور سرکشی پر غالب آ جائے گی اور زمین بدل دی جائے گی اور اکثر لوگ خدائے رحمان کی طرف رجوع کرلیں گے۔زمین اپنے رب کے نور سے روشن ہو جائے گی اور قلوب شیطانی تاریکیوں سے باہر آجائیں گے۔یہی باطل کی موت ، دنبال کی موت اور اس بڑے اثر دبا کا قتل ہے۔41