نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 463 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 463

استعدادوں کو بڑھانے کی بھی کوشش ہونی چاہئے۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ کمز ور لوگ ہمیشہ اپنے لئے سہارے کی تلاش کرتے ہیں لیکن کیونکہ صلاحیتیں مختلف ہوتی ہیں اس لئے بعض لوگ جن میں کچھ قابلیت ہو آگے بڑھ جاتے ہیں لیکن بعض مزید سہارے کو چاہتے ہیں لیکن یہ نہیں ہوتا کہ وہ تھک کر اس لئے بیٹھ جائیں کہ ان کی صلاحیت ہی اتنی تھی۔دنیاوی قانون میں تو ممکن ہو سکتا ہے کہ صلاحیت سے زیادہ کا وزن کسی پر ڈالا جار ہا ہولیکن دین کے معاملات میں یہ نہیں ہے۔جیسا کہ ذکر ہوچکا ہے کہ کم از کم معیار کے بعد یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا کہ صلاحیت سے زیادہ کا بوجھ کسی پر لادا جارہا ہو۔ہاں بعض باتوں کو سمجھنے کے لئے بعض سہاروں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔جیسا کہ دنیاوی معاملات میں پڑتی ہے۔ان سہاروں کی طرف کمزور مومنوں کو رجوع کرنا چاہئے اسی طرح جس طرح ایک کمز ور طالب علم استاد سے بار بار کوئی سبق سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور استاد کی کوشش سے ان کے معیار بہتر ہو جاتے ہیں لیکن استاد مدد نہ کرے تو بالکل پیچھے رہ جاتے ہیں لیکن ایسے استاد جو مدد نہ کریں ان کے رویے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ استاد صحیح طور پر اپنے فرائض اور اپنا حق ادا نہیں کر رہے بلکہ اپنے کام سے خیانت کرنے والے استاد ہیں۔یہاں میں دین کے لئے جو استاد مقرر ہیں ان کو بھی تو جہ دلانا چاہتا ہوں یعنی ہمارے مربیان و مبلغین اور صاحب علم لوگ کہ اللہ تعالیٰ نے جو ان کی استعدادوں کو بڑھایا ہوا ہے تو وہ ان کا صحیح استعمال بھی کریں اور اپنی استعدادوں سے کمزوروں کی استعدادوں کو علمی لحاظ سے بڑھانے کی کوشش کریں کیونکہ یہ آپ کی طرف سے خدا تعالیٰ کی عطا کردہ صلاحیتوں کا شکرانہ ہوگا۔اگر اللہ تعالی کی حقیقی رنگ میں شکر گزاری نہ ہو تو انسان گنہگار بن جاتا ہے۔( خطبہ جمعہ حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ ، فرمود 30 جنوری 2015ء) 463