نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 39 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 39

قلب و تزکیہ نفس کا موجب ہوگا۔احکم نمبر 23 جلد 7 مؤرخہ 24 / جون 1903، صفحہ 3) قرآن شریف میں چار سورتیں ہیں جو بہت پڑھی جاتی ہیں۔اُن میں مسیح موعود اور اس کی جماعت کا ذکر ہے۔(1) سورۃ فاتحہ جو ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے اس میں ہمارے دعوے کا ثبوت ہے۔جیسا کہ اس تفسیر میں ثابت کیا جائے گا۔(2 ) سورہ جمعہ جس میں اخرین منهم مسیح موعود کی جماعت کے متعلق ہے یہ ہر جمعہ میں پڑھی جاتی ہے۔(3) سورہ کہف جس کے پڑھنے کے واسطے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی ہے۔اس کی پہلی اور پچھلی دس آیتوں میں دجال کا ذکر ہے۔(4) آخری سورت قرآن کی جس میں دجال کا نام خناس رکھا گیا ہے۔یہ وہی لفظ ہے جو عبرانی توریت میں دجال کے واسطے آیا ہے۔یعنی محاش wna۔ایسا ہی قرآن شریف کے اور مقامات میں بھی بہت ذکر ہے۔الحکم جلد 5 نمبر 3 مورخہ 24 جنوری 1901ء صفحہ 11) جب کوئی شخص سورۃ فاتحہ اور قرآن کریم کی تلاوت کرنے لگے تو اس پر لازم ہے کہ وہ أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ پڑھے جیسا کہ قرآن کریم میں حکم ہے۔کیونکہ کبھی شیطان خدا تعالیٰ کی رکھ میں چوروں کی طرح داخل ہو جاتا ہے اور اس حرم کے اندر آ جاتا ہے جو معصومین کا محافظ ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ سورۃ فاتحہ اور قرآن مجید کی تلاوت کے وقت اپنے بندوں کو شیطان کے حملہ سے بچائے ، اُسے اپنے حربہ سے پسپا کرے، اس کے سر پر تبر رکھے اور غافلوں کو غفلت سے نجات دے۔پس اس نے شیطان کو دھتکارنے کے لئے جو قیامت تک راندہ درگاہ ہے اپنے ہاں سے بندوں کو ایک بات سکھائی اور اس مخفی امریعنی تعوذ میں یہ راز ہے کہ شیطان قدیم سے انسان کا دشمن ہے اور وہ اسے پوشیدہ اور اچانک طور پر بلاک اور برباد کرنا چاہتا ہے۔اس کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ چیز انسان کو تباہ کرنا ہی ہے اس لئے اس نے اپنے نفس پر یہ لازم کر لیا ہے کہ وہ ہر اس امر کی طرف کان لگائے رکھے جو خدائے رحمان کی طرف سے لوگوں کو جنت کی طرف بلانے کے لئے نازل ہوتا ہے 39