نُورِ ہدایت — Page 429
کرو۔کیونکہ خدا تعالیٰ فوق الطاقت کوئی تکلیف نہیں دیتا۔طاقت سے بڑھ کر کوئی تکلیف نہیں دیتا۔جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 ، صفحہ 156) پس یہ جو فرمایا ہے کہ یہ آخری دو آیات کافی ہیں۔یہ صرف پڑھ لینے سے نہیں۔بلکہ پہلی آیت میں ایمان پر مضبوط ہونے کا حکم ہے اور جب ایمان مضبوط ہو جائے تو وہ اس قسم کی حرکت کر ہی نہیں سکتا کہ اللہ تعالیٰ کی کچھ باتوں کو تو مانے اور کچھ کو نہ مانے اور ر ڈ کردے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اُسوہ تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قائم ہو گیا۔اس لئے ایمان کی انتہا ئیں حاصل کرنے کے لئے اس اُسوہ پر چلنے کے راستے تلاش کرو اور یہ کبھی خیال نہ آئے کہ بعض احکامات ہماری طاقت سے باہر ہیں۔اللہ تعالیٰ نے مختلف حالتوں میں بعض ایسی سہولتیں بھی دے دی ہیں۔اسلام میں دین کے معاملے میں سب سے زیادہ سہولتیں ہیں۔یہ کہا ہی نہیں جا سکتا کہ بعض احکامات ہماری پہنچ سے باہر ہیں جن پر عمل نہیں ہوسکتا۔اگر انسان دین کے معاملہ میں ضرورت سے زیادہ سہل پسند نہ ہو تو کوئی حکم ایسا نہیں جو بوجھ لگ رہا ہو۔اگر دنیاوی کاموں کے لئے انسان محنت اور کوشش کرتا ہے تو دین کے معاملے میں کیوں محنت اور کوشش نہیں کر سکتا ؟ پس یہ واضح ہو کہ آخری دو آیات پڑھ لینے سے انسان تمام دوسرے احکامات سے آزاد نہیں ہو جاتا بلکہ مطلب یہ ہے کہ جو غور کر کے پڑھے گا پھر وہ اس پر عمل بھی کرے گا۔قیام اللیل سے انسان کس طرح مستغنی ہو سکتا ہے؟ جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نمونہ ہمارے سامنے پیش فرما دیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ آپ کا اُسوہ ہمارے لئے قابل تقلید اور پیروی کرنے کے لئے ہے۔اگر اس کا کوئی مطلب ہو سکتا ہے تو اتنا کہ ان آیات پر غور کرنے سے اللہ تعالیٰ کی مدد سے ایمان میں اتنی ترقی ہوگی کہ عبادتوں کے لئے جاگنا اور توجہ دینا کوئی بوجھ نہیں لگے گا۔بخاری میں اس حدیث کے الفاظ صرف اس قدر ہیں کہ مَنْ قَرَأَ بِالْايَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ 429