نُورِ ہدایت — Page 34
عنایت کرنے والا نہیں مانتے۔اس کے بعد خدا تعالیٰ کی صفت الرحیم کا بیان ہے یعنی محنتوں کوششوں اور اعمال پر شمراتِ حسنہ مرتب کرنے والا۔یہ صفت اس فرقہ کو رڈ کرتی ہے جو اعمال کو بالکل لغو خیال کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ میاں نما ز کیا تو روزے کیا ؟ اگر غَفُورُ الرَّحِیم نے اپنا فضل کیا تو بہشت میں جائیں گے۔نہیں تو جہنم میں۔اور کبھی کبھی یہ لوگ اس قسم کی باتیں بھی کہہ دیا کرتے ہیں کہ میاں عبادتاں کر کے ولی تو ہم نے کچھ تھوڑا ہی بننا ہے۔کچھ کیتا کھیتا، نہ کیتا نہ ہیں۔الغرض الرحِیم کہ کر خدا ایسے ہی لوگوں کا رد کرتا ہے اور بتایا ہے کہ جو محنت کرتا ہے اور خدا کے عشق اور محبت میں محو ہو جاتا ہے وہ دوسروں سے ممتا ز اور خدا کا منظور نظر ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی خود دستگیری کرتا ہے جیسے فرمایا۔وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت (70 یعنی جو لوگ ہماری خاطر مجاہدات کرتے ہیں آخر ہم ان کو اپنا راستہ دکھا دیتے ہیں۔جتنے اولیاء اور انبیاء اور بزرگ لوگ گزرے ہیں انہوں نے خدا کی راہ میں جب بڑے بڑے مجاہدات کئے تو آخر خدا نے اپنے دروازے ان پر کھول دیے۔لیکن وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کی اس صفت کو نہیں مانتے۔عموماً ان کا یہی مقولہ ہوتا ہے کہ میاں ہماری کوششوں میں کیا پڑا ہے جو کچھ تقدیر میں پہلے روز سے لکھا ہے وہ تو ہو کر رہے گا۔ہماری محنتوں کی کوئی ضرورت نہیں جو ہونا ہے وہ آپ ہی ہو جائے گا۔اور شاید چوروں اور ڈاکوؤں اور دیگر بد معاشوں کا اندر ہی اندر یہی مذہب ہوتا ہوگا۔( الحکم 2 رجنوری 1908 صفحہ 6) سورۃ فاتحہ کی سات آیتیں اسی واسطے رکھی ہیں کہ دوزخ کے سات دروازے ہیں۔پس ہر ایک آیت گویا ایک دروازہ سے بچاتی ہے۔حق بات یہی ہے کہ سورت فاتحہ ہر علم اور معرفت پر محیط ہے وہ سچائی اور حکمت کے تمام نکات پر مشتمل ہے اور یہ ہر سائل کے سوال کا جواب دیتی اور ہر حملہ آور دشمن کو تباہ کرتی ہے۔نیز ہر مسافر کو جو مہمان نوازی چاہتا ہے کھلاتی اور آنے اور جانے والوں کو پلاتی ہے۔34