نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 406 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 406

کی وجہ سے ہمیں مت پکڑ جن کو ہم بھول گئے اور بوجہ نسیان ادا نہ کر سکے اور نہ ان بد کاموں پر ہم سے مؤاخذہ کر جن کا ارتکاب ہم نے عمداً نہیں کیا بلکہ سمجھ کی غلطی واقع ہو گئی اور ہم سے وہ بوجھ مت اُٹھو جس کو ہم اُٹھا نہیں سکتے اور ہمیں معاف کر اور ہمارے گناہ بخش اور ہم پر رحم فرما۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحه 25) لا تُحَمِّلْنَا مَا لا طَاقَةَ لَنَا بِہ جو امر فوق الطاقت اور نا قابل برداشت ہو جاوے اس سے خدا بھی درگذر کرتا ہے۔الحکم جلد 12 نمبر 22 مورخہ 26 /مارچ1908، صفحہ 4) ماخوذ از تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: يه سورة بقرۃ کا خاتمہ ہے۔وہ بات جو میں نے ابتدا میں بیان کی تھی اس کا اس میں بھی پتہ لگتا ہے کہ اصل غرض اِس سورۃ کریمہ کی اعلانِ جہاد ہے چنانچہ فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ۔(البقرہ 287 ) میں اس مطلب کو ظاہر کر کے ختم کر دیا۔فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ : مَنْ میں عموم ضروری نہیں۔معرفہ بھی ہوتا ہے۔یہاں بتا دیا ہے کہ مغفرت ان کو ہوگی جو يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ ( البقرۃ5) کے مصداق ہیں۔کیونکہ وہی مُفْلِحُون ہیں۔اور عذاب ان کو ہوگا جو اِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرُهُمُ (البقرة 7) کے مورد ہیں۔ضمیمه اخبار بدر قادیان 20 رمئی 1909ء) غُفْرَانَكَ رَبَّنا انسان جزع فزع میں بے صبری سے شہوت و حرص کے سبب حضرت حق سُبحانہ کے فیضان سے رُک جاتا ہے۔اس واسطے استغفار کا حکم دیا۔تمام لوگوں پر ایک وقت قبض و کسل کا آتا ہے اس کے دُور کرنے کے لئے یہ حکمی علاج ہے۔فقہاء آئمہ میں سے ایک امام کا یہ مذہب ہے جو مجھے بھی پسند ہے کہ اللهُم إِنِّي أَعُوذُبِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسْلِ کی دُعا 406