نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 389 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 389

خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے مجڑ کر ہی مقدر کر دیا ہے۔پس خوش قسمت ہیں وہ جو اس نور کو حاصل کرنے کے لئے آپ کی بیعت کا حق ادا کرنے والے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ بیان فرماتے ہوئے کہ میں نے یہ مقام کس طرح پایا، فرماتے ہیں کہ : میں ہمیشہ تعجب کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے ہزار ہزار درود و سلام اس پر )۔یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی۔اس لئے خدا نے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا اس کو تمام انبیاء اور تمام اولین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اس کی مرادیں اس کی زندگی میں اس کو دیں۔وہی ہے جو سر چشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے وہ انسان نہیں بلکہ ذریت شیطان ہے۔“ ( کہ اب جو کچھ ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ہو کر ہی ہے۔جو اس کے علاوہ کوئی دعویٰ کرتا ہے وہ اللہ کا بندہ نہیں کہلا سکتا پھر وہ شیطان کی ذریت ہے۔)۔فرمایا ” کیونکہ ہر ایک فضلیت کی کنجی اس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اس کو عطا کیا گیا ہے جو اس کے ذریعہ سے نہیں پاتاوہ محروم از لی ہے۔“ ( وہ ہمیشہ محروم رہے گا۔) ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے؟ ہم کا فرنعمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اس کے نور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اس کا چہرہ دیکھتے ہیں اسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میسر آیا ہے۔اس آفتاب ہدایت کی شعاع دھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے اور اُسی وقت تک ہم منور رہ سکتے ہیں جب تک کہ ہم اس کے مقابل پر کھڑے ہیں۔“ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 119 118 ) 389