نُورِ ہدایت — Page 360
اسی کے ہاتھ میں ہے۔زمین کے تمام خزانے، ظاہری اور مخفی خزانے اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں۔پس جب اس طاقت نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ میرے رسول کی جماعت غالب آئے گی تو دنیا کی کوئی طاقت اس فیصلہ پر اثر انداز نہیں ہوسکتی۔چاہے وہ بڑی طاقتیں ہوں یا دنیاوی حکومتیں ہوں یا نام نہاد دین کے علمبردار ہوں۔خدا تعالیٰ کے فیصلہ نے یقینا اور لازماً لاگو ہونا ہے۔لیکن مومنوں کو شروع میں ہی یہ واضح کر دیا کہ یہ غلبہ اور یہ دائمی زندگی اور بقا یقیناً ان لوگوں کو ملے گی جو تمام صفات کے جامع خدا پر یقین رکھتے ہوں اور اس کی عبادت کرنے والے ہوں۔پس آج ہر ایک احمدی کی یہ ذمہ داری ہے جسے سمجھنا ہر ایک احمدی کے لئے انتہائی ضروری ہے۔پھر فرمایا کہ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنہ۔کون ہے جو اس کے حضور سفارش کرے مگر اس کے اذن کے ساتھ۔پس اللہ تعالیٰ کے حضور کسی کی سفارش کام نہیں آئے گی مگر صرف اسے جسے اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا یا اذن دے گا۔اور احادیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا اذن ہوگا تو آپ سفارش کریں گے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شفیع ہونے سے کیا مراد ہے۔اس بارہ میں مختلف حوالوں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وضاحت فرمائی ہے۔ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ : ”ہاں سچا شفیع اور کامل شفیع آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جنہوں نے قوم کو بت پرستی اور ہر قسم کے فسق و فجور کی گندگیوں اور ناپاکیوں سے نکال کر اعلیٰ درجہ کی قوم بنادیا۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحه 160 مطبوعہ ربوہ ) پس جب حدیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم شفاعت فرمائیں گے تو اس وقت ان لوگوں کی شفاعت ہوگی جو شرک سے پاک ہوں گے۔ایک خدا کی عبادت کرنے والے ہوں گے۔فسق و فجور سے بچنے کی کوشش کرنے والے ہوں گے۔اور اگر چھوٹی چھوٹی کمزوریوں سے جو سرزد ہو بھی جاتی ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ بھی آپ کی شفاعت سے صرفِ نظر فرمائے گا۔360