نُورِ ہدایت — Page 354
ذکر فرما دیا ہے اور وہ چار ہیں۔(1) علت فاعلی ،(2) علت مادی ،(3) علت صوری اور (4) علت غائی“۔فرمایا کہ ہر چہار کامل درجہ پر ہیں۔پس الھ علت فاعلی کے کمال کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کے معنی ہیں کہ انا اللہ اعلم۔یعنی کہ میں جو خدائے عالم الغیب ہوں میں نے اس کتاب کو اتارا ہے۔پس چونکہ خدا اس کتاب کی علت فاعلی ہے اس لئے اس کتاب کا فاعل ہر ایک فاعل سے زبر دست اور کامل ہے۔“ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 136 - حاشیہ) پس قرآن کریم کے کامل کتاب ہونے کی سند اور غیروں کو چیلنج ابتدا میں ہی ان تین حروف میں خدا تعالیٰ نے دے دیا۔اس پر ایمان لانے والوں کو کسی بھی قسم کا خوف اور احساس کمتری نہیں ہونا چاہئے۔کسی قسم کے خوف اور احساس کمتری میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ اس خدا کا کلام ہے جس کے کاموں کی گنہ تک بھی انسان نہیں پہنچ سکتا اور کھلا چیلنج ہے کہ قرآن کریم کی ایک سورۃ جیسی سورۃ لے کے آؤ اور اپنے ساتھ تمام مددگاروں کو ملا لو تو بھی تمام مددگاروں سمیت نہیں لا سکتے۔بہر حال اس بات کی تفصیل میں تو میں نہیں جا رہا۔مختصر یہ کہ قرآن کریم کامل کتاب اس لئے ہے کہ اس کو اتارنے والا کامل اور سب قدرتوں اور طاقتوں کا مالک اور عالم الغیب خدا ہے۔دوسری بات یہ فرمائی کہ : "ملت مادی کی طرف اشارہ کرتا ہے یہ فقرہ کہ ذلِك الكتب یعنی یہ وہ کتاب ہے جس نے خدا کے علم سے خلعت وجود پہنا ہے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ خدا تعالی کا علم تمام علوم سے کامل تر ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ میرے علم کی وسعتوں کی انتہا نہیں ہے۔انسان اس کا احاطہ کر ہی نہیں سکتا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل اور وسیع علم سے کچھ حصہ اپنے پیارے نبی ﷺ کے ذریعہ اس کتاب میں ہمیں بتایا۔اور پھر تیسری چیز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائی ، فرمایا: ”اور علت صوری کی طرف اشارہ کرتا ہے یہ فقرہ لاریب فیہ۔یعنی یہ کتاب ہر ایک غلطی اور شک وشبہ سے پاک ہے۔اور اس میں کیا شک ہے کہ جو کتاب خدا تعالیٰ کے علم سے نکلی ہے وہ اپنی 354