نُورِ ہدایت — Page 353
آنحضرت ﷺ کا یہ فرما نا صرف اسی حد تک نہیں ہے کہ پڑھ لی اور سو گئے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس آیت کو اور ان آیات کو غور سے پڑھا جائے۔ان پر غور کیا جائے۔ان کے معانی پر غور کیا جائے۔پھر انسان اپنا جائزہ لے اور دیکھے کہ کس حد تک ان پر عمل کرتا ہے، کس حد تک اس میں پاک تبدیلیاں ہیں اور جائزہ لینے کے بعد جو بھی صورت حال سامنے آئے ، یہ عہد کرے کہ آئندہ سے یہ پاک تبدیلیاں میں اپنے اندر پیدا کروں گا۔پھر یہ چیز ہے جو شیطان سے دُور کرتی ہے۔جن دس آیتوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے چار آیات جو ہیں وہ سورۃ البقرہ کی پہلی چار آیات ہیں۔جن میں ایک مومن کی پاکیزہ عملی زندگی کا نقشہ کھینچا گیا ہے اور جیسا کہ میں نے کہا ایک آیت ، آیت الکرسی ہے اور اس کے ساتھ کی دو آیات ہیں جن میں صفات باری کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔پھر سورۃ البقرہ کی آخری تین آیات ہیں جن میں سے آخری آیت کی وضاحت میں نے گزشتہ جمعہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفسیر کی روشنی میں کی تھی۔گو اس وقت مضمون تو آیت الکرسی کا ہی بیان ہوگا لیکن اس سے پہلے سورۃ بقرہ کی پہلی چار آیات میں سے الم ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِين کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو تفسیر بیان فرمائی ہے اس کا ایک اقتباس میں پڑھوں گا جو اللہ تعالیٰ کے پاک کلام قرآن کریم کی وسعتوں کی طرف ، اس کو سمجھنے کی طرف ہماری رہنمائی کرتا ہے۔اور اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے قرآن کریم کو سمجھنا آسان بھی ہے اور انسان صحیح طرح سمجھ سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”جب تک کسی کتاب کے علل اربعہ کامل نہ ہوں۔وہ کامل کتاب نہیں کہلا سکتی۔علل اربعہ کا مطلب ہے کہ چار بنیادی خصوصیات۔اگر یہ چار بنیادی صفات کامل ہوں تب ہی وہ کتاب کامل کہلا سکتی ہے۔آپ فرماتے ہیں : اس لئے خدا تعالیٰ نے ان آیات میں قرآن شریف کے علل اربعہ کا 353