نُورِ ہدایت — Page 352
ظاہری تکالیف کو دیکھا جائے تو حضرت امام حسین بھی شہید کر دئیے گئے تھے۔مگر وہ نا کام نہیں ہوئے بلکہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے اور جس اصول کی خاطر انہوں نے قربانی پیش کی تھی وہ اصول آج بھی قائم ہے اور قیامت تک قائم رہے گا۔(ماخوذ از تفسیر کبیر از حضرت خلیفة المسیح الثانی) حضرت خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آیت الکرسی کی تلاوت ایدہ کے بعد فرمایا: اس آیت کا ترجمہ ہے کہ اللہ، اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ہمیشہ زندہ رہنے والا اور قائم بالذات ہے۔اسے نہ تو اونگھ پکڑتی ہے اور نہ نیند۔اسی کے لئے ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین ہے۔کون ہے جو اس کے حضور شفاعت کرے مگر اس کے اذن کے ساتھ۔وہ جانتا ہے جو اس کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے۔اور وہ اس کے علم کا کچھ بھی احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے۔اسی کی بادشاہت آسمانوں اور زمین پر ممتد ہے۔اور ان دونوں کی حفاظت اسے تھکاتی نہیں۔اور وہ بہت بلندشان اور بڑی عظمت والا ہے۔یه آیت۔۔آیت الکرسی کہلاتی ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ہر چیز کا ایک چوٹی کا حصہ ہوتا ہے اور قرآن کریم کی چوٹی کا حصہ سورۃ البقرہ ہے اور اس میں ایک ایسی آیت ہے جو قرآن کریم کی سب آیات کی سردار ہے۔اور وہ آیت الکرسی ہے۔( سنن الترمذی کتاب فضائل القرآن باب ما جاء في فضل سورة البقرة وآية الكرسی حدیث نمبر 2878) اسی طرح یہ بھی روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص سورۃ البقرۃ کی دس آیات پڑھ کر سوئے صبح تک اس کے گھر میں شیطان نہیں آتا۔ان آیات میں سے ایک آیت، آیت الکرسی ہے۔( سنن الدارمی کتاب فضائل القرآن باب فضل اول سورة البقرة وآية الكرسی حدیث نمبر 3383) 352