نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 341 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 341

الْخَلِيلُ مَنْ خُلَّتُه مَقْصُورَةٌ عَلَى حُبّ اللهِ تَعَالَى فَلَيْسَ فِيهَا لِغَيْرِهِ مُتَسَعُ وَلَا شِرَكَةٌ مِنْ فَحَاتٍ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ( مجمع البحار ) خلیل اسے کہتے ہیں جس کی محبت صرف اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ ہو اور اس کے دل میں اس محبت کے سوا اور کسی کی محبت نہ ہو۔حدیث میں آنحضرت تعلیم کا یہ قول درج ہے کہ إِنِّي أَبْرَهُ مِنْ كُلّ ذِى خُلَّةٍ مِنْ خُلَّتِهِ لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيْلًا لَا أَخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ۔یعنی میں ہر شخص کی دوستی سے براءت کا اظہار کرتا ہوں اور صرف خدا تعالیٰ کی طرف تو جہ کرتا ہوں۔اگر دنیا میں میں کسی کو خلیل بنا تا تو ابوبکر کو بناتا۔شَفَاعَةُ شَفَعَ سے نکلا ہے اور شَفَع کے معنے جُفت کے ہیں۔يُقَالُ شَفَعَ الْعَدَدَ وَشَفَعَ الصَّلوةَ صَيَّرَهَا شَفَعًا- یعنی شَفَعَ الْعَدَدَ کے معنے ہیں عدد کو جفت بنا یا اور شفَعَ الصلوة کے معنے ہیں نماز کو جوڑ ا بنا دیا۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ اسلام نے صرف زکوۃ اور مال غنیمت کے اموال سے ہی غرباء اور مساکین کی امداد کے لئے ایک فنڈ مقرر کرنے پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ مسلمانوں کو عام طور پر بھی غریبوں اور ناداروں کے لئے صدقہ وخیرات کرنے کی بار بار تا کید فرمائی ہے۔اور بتایا ہے کہ تمہارے ساتھ ترقیات کے جو وعدے کئے گئے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے کہیں یہ نہ سمجھ لینا کہ ہمیں اب مزید قربانیوں کی ضرورت نہیں۔قربانیاں تمہیں قدم قدم پر کرنی پڑیں گی اور قدم قدم پر تمہیں اپنے اموال خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے پڑیں گے۔لَا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَاعَةٌ میں جس بیع کی طرف اشارہ ہے اس کا ذ کر دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں فرمایا ہے۔اِنَّ اللهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ (تو به 111) یعنی اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ایک بیع کی ہے اور وہ یہ کہ ان کے مالوں اور جانوں کو جنت دے کر خرید لیا ہے۔پس فرما یا خدا تعالیٰ تم سے یہ بیع کرتا ہے۔۔مگر یہ بیع اسی دنیا میں ہوگی اُس دن نہیں ہوگی۔وَلَا خُلةٌ میں بتایا کہ قیامت کے دن خدا تعالیٰ کے سوا سب خلیل جاتے رہیں گے۔یہاں 341