نُورِ ہدایت — Page 340
معمولی روشنی سورج کی ہے پھر اس سے بڑھ کر ٹور طلب ہے جس سے انسان کے اندرونی امراض معلوم ہوتے۔پھر اس سے بڑھ کر نور فلاسفہ ہے کہ وہ خط و خال سے، بال سے ، آواز سے، ناک سے، ہونٹ سے کسی کے اخلاق پر آگاہ ہو جاتے ہیں۔پھر جن کو اس سے بھی بڑھ کر انوار دیے جاویں وہ مومن ہیں چنانچہ فرمایا اِتَّقُوا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللهِ پس مومن ہونے کا نشان ہے کہ اس انسان کی قوت متمیزہ بڑھتی جاتی ہے اور وہ آہستہ آہستہ تاریکیوں سے نکل کر انوار میں آتا جاتا ہے اور اپنی حالت میں دن بدن نمایاں تبدیلی پاتا ہے۔ظلمتیں بھی کئی قسم کی ہوتی ہیں۔ایک رسم کی ،مثلاً شادی آ گئی۔اب رسم کہتی ہے کہ دس ہزار روپیہ خرچ کرو۔اب گھر میں تو اپنے روپے نہیں۔پس ساہوکاروں کے پاس جاتا ہے۔وہ سُود مانگتا ہے۔خدا فرماتا ہے جو سود دیتا یا لیتا ہے وہ خدا سے جنگ کرتا ہے۔پھر اسی طرح بڑھتے بڑھتے ایک گناہ سے کئی گناہوں کا مرتکب ہوتا ہے۔پھر عادت کی ظلمت ہے۔یہ عادت بُری بلا ہے۔جس چیز کی عادت پڑ جاوے وہ پیچھا نہیں چھوڑتی۔بعض کو قصہ سُنے کی دھت ہوتی ہے بعض کو ناول پڑھنے کی۔بعض کو چائے پینے کی، حقہ پینے کی، پان کھانے کی۔پھر ظلمت سے شہوت ، حرص، غضب، سستی ، کاہلی۔پس یہ بات یا درکھو کہ جس تعلیم سے قوت ممیزہ بڑھے وہ بچی ہے۔مِن الظُّلمت : 1 - والدین کی ظلمت 2 احباب کی ظلمت 3- کفر و شرک کی ظلمت -4 - جہالت کی ظلمت 5 محبت کی ظلمت 6 عجز و کسل کی ظلمت 7 ظلم کی ظلمت 8۔رسم و بدعت کی ظلمت۔(ماخوذ از حقائق الفرقان) حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں۔الخلہ کے معنے ہیں اَلصَّدَاقَةُ دوستی اور محبت۔اور تخلَّلَتِ الْقَلْبَ کے معنے ہیں دَخَلَتْ خیاللہ وہ دوستی اور محبت جو دل کے اندر گھس کر اس کے سوراخوں میں داخل ہو جائے۔( مجمع ابھار ) 340