نُورِ ہدایت — Page 339
دین کے لئے اللہ تعالیٰ نے بہت سی چیزیں عطا فرمائی ہیں جن کے ذریعہ ہم اس کی کامل اطاعت، فرمان پذیری اور وفاداری کا اظہار کر سکتے ہیں اور پھر ان کے وراء الورا اندر ہی اندر قویٰ پر حکمرانی کر سکتے ہیں اور ان کو الہی فرمانبرداری میں لگا سکتے ہیں۔غرض دین کی اصل حقیقت جو قرآن شریف نے بتائی ہے وہ مختصر الفاظ میں کامل وفاداری ، بیٹی اطاعت اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری ہے۔قوانین اسلام کے موافق ہر قسم کی آزادی مذہبی اور مذہب والوں کو بخشی گئی جو سلطنت اسلام کے مطیع و محکوم تھے۔لا إكراه في الدِّينِ ( البقرة257) دین میں کوئی اجبار نہیں۔یہ آیت گھلی دلیل اس امر کی ہے کہ اسلام میں اور اہل مذاہب کو آزادی بخشنے اور ان کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم ہے۔اسلام کے معنے ضلع کے ساتھ زندگی بسر کرنا، چین سے رہنا۔کیونکہ یہ لفظ سلم سے مشتق ہے جس کے معنے صلح اور آشتی کے ہیں۔جبر و اکراہ سے اسلام اور تصدیق قلبی کا حصول ممکن نہیں۔اسلام میں شرط ہے کہ آدمی صدق دل سے باری تعالیٰ کی الوہیت اور اس کی معبودیت اور اس کے رسولوں کی رسالت وغیرہ وغیرہ ضروریات دین پر یقین لاوے تب مسلمان کہلاوے اور ظاہر ہے کہ دلی یقین جبر و اکراہ سے کبھی ممکن نہیں ہے۔میں بڑی جرأت سے کہتا ہوں کہ حضور علیہ السّلام اور ان کے راشد جانشینوں کے زمانے میں بھی کوئی شخص جبر اور اکراہ سے مسلمان نہیں بنایا گیا۔اللهُ وَلَى الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمتِ إِلَى النُّورِ۔وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَتُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّوْرِ إِلَى الظُّلُمتِ أُولَئِكَ أَصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ الله وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا : اللہ جو سمیع علیم ہے اس کی پہچان کیا ہے۔فرماتا ہے کہ وہ مومنوں کا والی بن جاتا ہے۔اب مومنوں کی پہچان بتاتا ہے کہ وہ ظلمات سے نکل کر نور کی طرف آتے جاتے ہیں۔ظلمت کیا ہے جس میں تمیز نہ رہے۔روشنی کیا ہے جس میں تمیز ہو سکے۔339