نُورِ ہدایت — Page 332
پھر ٹاٹ پوش درویشوں کے رنگ میں ہندوستان میں آئیں اور بہت سے حصہ آریہ ورت کو اسلام سے مشرف کر دیں اور یورپ کی حدود تک لا إلهَ إِلَّا الله کی آواز پہنچاویں ؟ تم ایمانا کہوا کہ کیا یہ کام ان لوگوں کا ہے جو جبر- امسلمان کئے جاتے ہیں جن کا دل کا فر اور زبان مومن ہوتی ہے؟ نہیں! بلکہ یہ اُن لوگوں کے کام ہیں جن کے دل نور ایمان سے بھر جاتے ہیں اور جن کے دلوں میں خدا ہی خدا ہوتا ہے۔(پیغام صلح، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 468، 469) یاد رکھو! مہدی کی نسبت جو حدیثیں ہیں جن میں لکھا ہے کہ وہ جنگ کرے گا اور خونریزی کرے گا۔ان کی نسبت خودان مولویوں نے لکھ دیا ہے کہ بہت سی حدیثیں ان میں موضوع ہیں اور قریباً سب کی سب مجروح ہیں۔ہمارا یہ مذہب نہیں ہے کہ مہدی آئے گا تو خون کرتا پھرے گا وہ دین کیا ہوا جس میں سوائے جنگ اور جدال کے اور کچھ نہ ہو۔جہاد کے مسئلہ کو بھی ان ناواقفوں نے نہیں سمجھا۔قرآن شریف تو کہتا ہے : لا اکراہ فی الدین تو کیا اگر مہدی آکر لڑائیاں کرے گا تو اكراة في الدين جائز ہوگا اور قرآن شریف کے اس حکم کی بے حرمتی ہوگی۔اُس کے آنے کی غرض تو یہ ہے کہ وہ اسلام کو زندہ کرے یا یہ کہ اس کی توہین کرے۔اگر دین میں لڑائیاں ہی ضروری ہوتی ہیں تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ برس تک مکہ میں رہ کر کیوں نہ لڑے؟ ہر قسم کی تکلیف اٹھاتے رہے اور پھر بھی آپ نے ابتدا نہیں کی اور ہمارا مذہب ہے کہ جبر مسلمان کرنے کے واسطے لڑائیاں ہر گز نہیں کی ہیں بلکہ وہ لڑائیاں خدا تعالیٰ کا ایک عذاب تھا اُن لوگوں کے لئے جنہوں نے آپ کو سخت تکالیف دی تھیں اور مسلمانوں کا تعاقب کیا اور اُن کو تنگ کیا تھا۔پس یہ ہر گز صحیح نہیں ہے کہ اسلام تلوار دکھاتا ہے۔اسلام تو قرآن اور ہدایت پیش کرتا ہے۔وہ صلح اور امن لے کر آیا ہے اور دنیا میں کوئی ایسا مذہب نہیں جو اسلام کی طرح صلح پھیلاتا ہو۔پس یہ غلط ہے کہ مہدی جنگ کرے گا۔ہمارا یہ مذہب ہر گز نہیں۔بھلا اگر تلوار مارکرلوگوں کو بلاک کر دیا اور اُن کے املاک لوٹ لئے تو اس سے فائدہ کیا ہوا؟ جس مہدی ہونے کا ہما را دعویٰ ہے یہ تو قرآن شریف سے ثابت ہے جیسے 332