نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 326 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 326

جو شخص مجھ سے سچی بیعت کرتا ہے اور سچے دل سے میرا پیر و بنتا ہے اور میری اطاعت میں محو ہو کر اپنے تمام ارادوں کو چھوڑتا ہے وہی ہے جو ان آفتوں کے دنوں میں میری رُوح اُس کی شفاعت کرے گی۔(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 14 ،15) وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ یعنی خدا کی کرسی کے اندر تمام زمین و آسمان سمائے ہوئے ہیں اور وہ اُن سب کو اٹھائے ہوئے ہے۔ان کے اٹھانے سے وہ تھکتا نہیں ہے اور وہ نہایت بلند ہے کوئی عقل اس کی گنہ تک پہنچ نہیں سکتی اور نہایت بڑا ہے اس کی عظمت کے آگے سب چیزیں بیچ ہیں۔یہ ہے ذکر کرسی کا اور یہ محض ایک استعارہ ہے جس سے یہ جتلانا منظور ہے کہ زمین و آسمان سب خدا کے تصرف میں ہیں اور ان سب سے اس کا مقام دور تر ہے اور اس کی عظمت نا پیدا کنار ہے۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 118 حاشیہ) وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وہ نہایت بزرگ اور صاحب عظمت ہے۔ست بچن، روحانی خزائن جلد 10 صفحه (221) لَا إِكْرَاءَ فِي الدِّينِ قَد تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْعَى فَمَن يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنُ بِاللهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (البقره 257) لا إكراه في الدِّينِ یعنی یہ دین کوئی بات جبر سے منوانا نہیں چاہتا بلکہ ہر ایک بات کے دلائل پیش کرتا ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحه 433) خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ : لا إكراه في الدِّينِ یعنی دین اسلام میں جبر نہیں ہے ہاں ! عیسائی لوگ ایک زمانہ میں جبر آلوگوں کو عیسائی بناتے تھے مگر اسلام جب سے ظاہر ہوا وہ جبر کے مخالف ہے۔جبر ان لوگوں کا کام ہے جن کے پاس آسمانی نشان نہیں۔مگر اسلام تو آسمانی 326