نُورِ ہدایت — Page 290
ہیں ان کو تم توڑ نہ دو اور ہم نے آسمانی مؤثرات کو قبول کر لینے کے لئے تمہارے دل میں جو کھڑ کیاں بنا رکھی ہیں ان کو تم کھول نہ دو۔جب تک تم ان غلافوں اور ان پر دوں کو جنہیں تم نے اپنی آنکھوں پر ڈال لیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے نور سے اپنے آپ کو چھپانے کے لئے اور اللہ تعالیٰ کے نور کے جلووں سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے خود ہی تم نے اپنی آنکھوں پر پٹی کے طور پر باندھ رکھے ہیں تم ان کو ہٹا نہ دو، اس وقت تک تمہاری یہ حالت مبدل بہ اسلام نہیں ہوسکتی اور اللہ تعالیٰ کی توجہ کو تم حاصل نہیں کر سکتے۔تم جب تک اپنی یہ حالت نہیں بدلتے خدا تعالیٰ سے ڈورو مہجور رہو گے۔دنیا کی جھوٹی اور عارضی لذت سے تم لطف اندوز تو ہو سکتے ہولیکن اگر تمہاری یہی حالت رہے تو تم اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے پیار کی حقیقی اور سچی لذت اور ابدی سرور کو کبھی حاصل نہیں کر سکتے۔پس جب تک منکرین دین کی حالت نہیں بدلتی۔اس وقت تک قرآن کریم کی تعلیم یا حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ایک اور گروہ بھی دنیا میں پیدا ہوگا اور یہ ان لوگوں کا گروہ ہے جو کہتے تو یہ ہیں کہ ہم اللہ اور آخرت پر ایمان لائے لیکن درحقیقت وہ ایمان نہیں لاتے۔ان کا یہ دعویٰ ایمان سراسر جھوٹا ہوتا ہے۔پہلے دو گروہوں کا ذکر نسبتا مختصر الفاظ میں فرمایا کیونکہ اس متن اور مضمون میں ان دو گروہوں کے بارے میں زیادہ کہنے کی ضرورت اس لئے بھی نہیں تھی کہ ان دونوں گروہوں کی خصوصیات اور کیفیات ظاہر و باہر ہوتی ہیں مگر جس گروہ کا ذكر وَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ کے الفاظ سے شروع ہوتا ہے اس کے متعلق نسبتاً زیادہ باتیں بیان کرنے کی ضرورت تھی کیونکہ یہ گروہ مار آستین بن کر اندر ہی اندر جماعت کے اجتماعی جسم کو ڈستا رہتا ہے۔منکرینِ اسلام ظاہری طور پر باہر سے علی الاعلان حملہ آور ہوتے ہیں اور مومن بندے اپنے اپنے اخلاص کے مطابق اللہ تعالیٰ پر توکل رکھتے ہوئے اس کے سامنے سینہ سپر رہتے ہیں۔وہ ہر وقت چوکس اور بیدار رہ کر اس کے شب خون سے محفوظ رہتے ہیں۔کیونکہ ایک مومن جس طرح دن کو بیدار اور باخبر رہتا ہے اسی طرح وہ شب بیدار بھی ہوتا ہے 290