نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 282 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 282

یہاں قرآن کریم نے صاف صاف فرما دیا ہے کہ وہ مومن نہیں ہیں بلکہ کفار میں شامل ہیں وَإِذَا خَلَوْا إِلى شَیطِینِهِمْ۔دیکھو شیاطین کی نسبت ان کی طرف کی۔وہ باتیں بنا بنا کر ان کو خوش رکھنا چاہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اللهُ يَسْتَهْزِی: ہم۔عربی کا قاعدہ ہے کہ کسی کے جرم اور اس جرم کی سزا کا ایک ہی لفظ ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی ہنسی کی ان کو خوب سزا دے گا اور انہیں ان کی شرارت کا مزا چکھائے گا۔اور ان کو برا بدلہ ملے گا۔ان کی تجارت بری ہے۔وہ ہدایت یافتہ نہ ہوئے۔( خطبات محمود سال 1914 ، صفحہ 22 تا 36 ) حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے خطبہ جمعہ فرمودہ 11 جولائی 1919ء میں سورہ بقرہ کی ابتدائی آیات پڑھ کر فرمایا:۔۔۔میرے پاس مختلف جگہوں سے اس قسم کے خطوط آئے ہیں جن میں لکھا ہے کہ چونکہ ہمارا فلاں سے جھگڑا ہے اس لئے ہم فلاں جگہ نماز پڑھنے کے لئے نہیں جائیں گے اور بعض کے متعلق دوسروں نے لکھا ہے کہ وہ باجماعت نماز پڑھنے کے لئے اس لئے نہیں آتے کہ فلاں سے ان کا جھگڑا ہے۔۔۔اللہ تعالیٰ نے جہاں جہاں قرآن کریم میں نماز کے لئے حکم بیان فرمایا ہے وہاں کثرت کے ساتھ قیام صلوۃ اور حفاظت صلوۃ فرمایا ہے۔صرف نماز پڑھنے کا لفظ بہت کم جگہ آیا ہے۔اور وہ بھی حکم کے طور پر نہیں۔جہاں احکام کا ذکر ہے وہاں اقامت کا لفظ ساتھ رکھا گیا ہے اور اقامت صلوۃ کے معنے یہ ہیں کہ نماز کو اس کی تمام شرائط کے ساتھ پڑھا جائے۔اقامت کا لفظ عام ہے اور جب کسی امر کی تکمیل ہو جائے تو اس کے متعلق اقامت کا لفظ بولتے ہیں۔مثلاً تجارت ہے۔جب کسی ملک کی تجارت پورے زور پر نہ ہو تو اس کی نسبت کہتے ہیں کہ فلاں ملک کی تجارت بیٹھ گئی اور اگر پورے زور پر ہو تو کہتے ہیں کہ فلاں ملک کی تجارت کھڑی ہے۔اس طرح دوسرے سب امور جب تکمیل کو پہنچ جائیں تو ان کے متعلق اقامت کا لفظ بولتے ہیں اور جب ان میں کمزوری پیدا ہو تو بیٹھ گئے کہتے ہیں۔اس لئے نماز کی اقامت کے یہ معنی ہوئے کہ اس کو تمام شرائط کے ساتھ ادا کیا جائے اور یہی وہ بات ہے جس کا قرآن کریم میں حکم دیا گیا ہے۔اور یہی وہ چیز ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس 282