نُورِ ہدایت — Page 280
کہ طاعون اس طرح تباہ کرے گی اور اس طرح نافرمانوں کو ہلاک و بر باد کرے گی۔اس سے انسان کو ڈرہوسکتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ ہمیں بھی اس سے گزند پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔یعنی ہم تمہیں طاعون سے بچاویں گے بلکہ تمہارے غلاموں اور ان کے غلاموں کی بھی حفاظت کریں گے تو جب حاکم راضی ہو تو ما تحت خود بخود راضی ہو جاتا ہے۔اس پر غور کرنے سے کھلتا ہے کہ کیونکر انسان تمام قسم کے خوفوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔جو ایسا نہیں کرتے ان کو خدا تعالیٰ پر پورا ایمان نہیں ہے۔نبی کریم عالم نے جب اپنا دعویٰ کیا تو سب سے زیادہ خطر ناک بات جس کی لوگوں نے سخت مخالفت کی وہ لا الہ الا اللہ کا پیش کرنا تھا۔وہ لوگ محمد رسول اللہ کو ماننے کو تیار تھے مگر لا إله إلا اللہ کو وہ نہیں مانتے تھے۔چنانچہ وہ لوگ آپ کے پاس آئے اور آ کر عرض کیا کہ اگر آپ کو حکومت کا شوق ہے تو ہم آپ کو اپنا بادشاہ بنانے کو تیار ہیں اور ا گر آپ کو مال کی خواہش ہے تو ہم اتنا مال جمع کر سکتے ہیں جتنا تم چاہو اور اگر شادی کرنا چاہو تو ہم تم کو خوبصورت سے خوبصورت بیوی لا دیتے ہیں اور اگر تم بیمار ہو تو آپ کا علاج کروانے کو تیار ہیں۔تو نبی کریم عالم نے فرمایا کہ سورج اور چاند اگر میرے دائیں بائیں لا کر رکھ دیئے جاویں تو بھی میں لا الہ الا اللہ کی تعلیم سے نہیں رک سکتا۔ان لوگوں کی مخالفت صرف لا اله الا اللہ کے سبب سے تھی۔وہ بتوں کے پجاری تھے اور بت بنا بنا کر بیچا کرتے تھے اور وہ ان کے رزق کا ایک ذریعہ بنے ہوئے تھے۔وہ اس لا اله الا اللہ کی تعلیم سے بڑھ کر کوئی اور خطرناک بات نہیں سمجھتے تھے۔وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم نے اس تعلیم کومان لیا تو ہمارا ستیا ناس ہو جائے گا تو جس شخص کا یہ حال ہے وہ کیوں مخالفت نہ کرے گا۔تو ایسی حالت میں جبکہ نبی کریم ملایم ایم اکیلے تھے اور باوجود اس کے کہ تمام عرب مخالف تھا، آپ اس کہنے سے نہیں رکے اور آخر کار کامیاب و مظفر و منصور ہو گئے۔پس جو شخص پھر ایسا ہو جاوے لوگ اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔280