نُورِ ہدایت — Page 255
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ مُؤْمِنين۔هُدًى لِلْمُتَّقِينَ سے هُمُ الْمُفْلِحُونَ تک اس گروہ کا ذکر کیا جو ایمان پر مستقل طور پر قائم ہے اور اس کے ایمان سے جو فوائد وابستہ ہیں ان سے پوری طرح فائدہ اٹھاتا ہے۔پھر ان الَّذِينَ كَفَرُوا سے اس گروہ کا ذکر کیا جو کفر و عصیان سے مستقل طور پر وابستہ ہے اور اس کے بد نتائج کا مستحق ہو چکا ہے۔انہی کے ذکر میں ضمناً ان کفار کا بھی ذکر آ گیا جو گوعقیدۃ کافر ہیں لیکن ان کے دلوں میں تعصب نہیں۔وہ صداقت کے سمجھ آ جانے پر اسے قبول کرنے کے لئے بھی تیار ہیں اور اس کے سمجھنے کے لئے بھی کوشش کرتے ہیں کیونکہ جب یہ فرمایا کہ وہ کافر ایمان نہیں لائیں گے جنہوں نے سُنا آن سُنا کر چھوڑا ہے اور جو اس حد تک متعصب ہیں کہ سچائی کو قبول نہ کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں تو اس سے ضمنا یہ نتیجہ بھی نکل آیا کہ جو کافر سنتے ہیں اور سچائی کو اگر سمجھ میں آ جائے ماننے پر آمادہ ہیں وہ جیسے جیسے انکشاف تام ان پر ہوتا جائے گا ایمان لاتے چلے جائیں گے۔اب اس آیت سے قرآن کریم سے تعلق رکھنے والے ایک اور گروہ کا ذکر کرتا ہے جو منافقوں کا گروہ کہلاتا ہے۔مومنوں کی جماعت کو مدنظر رکھتے ہوئے منافق دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جو صرف ظاہر میں مومنوں سے ملے ہوئے ہوتے ہیں لیکن دل میں منکر ہوتے ہیں اور ان کی ظاہری شمولیت محض دنیوی فوائد یا قومی جتھا بندی کی وجہ سے ہوتی ہے۔اور ایک وہ منافق جو عقلی دلائل سے تو ایمان کے اصول کو تسلیم کرتے ہیں لیکن اُن کے اندر ایسی مضبوطی نہیں ہوتی کہ اس کے لئے پوری طرح قربانیاں کر سکیں۔پس ایسے لوگ اپنی عملی کمزوری کی وجہ سے ، نہ کہ عقیدہ کے اختلاف کی وجہ سے عمل میں سستی دکھاتے ہیں اور کبھی کفار کا زیادہ دباؤ پڑے تو ان کی ہاں میں ہاں بھی ملا دیتے ہیں اور اُن سے تعلق و محبت بھی جتا دیتے ہیں اور دل میں خیال کرتے ہیں کہ جب صداقت کو اللہ تعالیٰ نے غلبہ دینا ہی ہے تو کیا 255