نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 251 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 251

ہے کہ جب انسان اعتقاد باطل یا ممنوع باتوں کے ارتکاب میں حد سے بڑھ جاتا ہے اور حق کی طرف کسی طرح بھی تو جہ نہیں کرتا تو اس کا یہ طرز عمل اس کے اندر ایک ایسی حالت پیدا کر دیتا ہے جو گناہوں کے ارتکاب کو عمدہ بجھتی ہے گویا اس کے دل پر اب مہر لگ گئی کہ نہ اس پر حق کا اثر ہوتا ہے اور نہ اس کا دل حق کی طرف رجوع کرتا ہے ( مفردات ) قُلُوب قلب کی جمع ہے اور اس کے معنے ہیں الْفُؤَادُ - دل - وَقَدْ يُطْلَقُ عَلَى الْعَقْلِ اور کبھی قلب کا لفظ عقل پر بھی بولا جاتا ہے (اقرب) اور لفظ قلب کے ذریعہ ان کیفیات کو بیان کیا جاتا ہے جو روح علم اور شجاعت وغیرہ اقسام کی اس کے ساتھ مخصوص ہیں۔السيعُ : مفردات میں ہے السَّمْعُ قُوَةٌ فِي الْأُذُنِ بِهِ يُدْرَكُ الْأَصْوَاتُ یعنی سمع کان کی ایک قوت ( شنوائی) کا نام ہے جس کے ذریعہ سے انسان آواز کو معلوم کرتا ہے۔وَفِعْلُهُ يُقال له الشمعُ أيضًا۔اور سننے کے فعل کا نام بھی سمع رکھا جاتا ہے وَيُعَبرُ تَارَةٌ بِالسَّمْعِ عَنِ الْأُذُنِ اور کبھی لفظ سمع بول کر کان مراد ہوتا ہے۔وَتَارَةً عَنْ فِعْلِهِ كَأَسْمَاعِ اور کبھی لفظ سمع سے اس کا فعل مرا دلیا جاتا ہے۔عذاب کے معنے ہیں ہر وہ چیز جو انسان پر شاق گذرے اور حصول مراد سے اُسے روک دے۔عَذَاب کے معنے ہیں (1) تکلیف (2) ایسی چیز جوزندگی کی حلاوت سے محروم کر دے (3) جو مقصود حیات سے محروم کر دے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین لطیف باتوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور توجہ دلائی ہے کہ اگر غور کرو تو عنادی کا فروہی ہوتے ہیں جو دل ، کان اور آنکھوں سے کام لینا چھوڑ دیتے ہیں۔اور ہدایت کے یہی تین بڑے ذریعے ہیں اور ہر ایک بات پر غورا نہی تین طریق سے ہو سکتا ہے۔اول دل ہے۔سب سے پہلا ہدایت کا ذریعہ یہی ہے۔جو شخص سوچنے کا عادی ہوتا ہے وہ بیسیوں صداقتوں کو پالیتا ہے۔دوم کان ہیں۔اگر کسی میں زیادہ عقل اور سمجھ نہیں ہوتی کہ 251