نُورِ ہدایت — Page 223
نمونہ کا لاکھواں حصہ بھی پیش نہیں کر سکتا۔پس جب تک کوئی کتاب هُدًى لِلْمُتَّقِينَ نہ ہو یعنی جن لوگوں کے خیالات و افکار دلیل اور بُرہان سے پاک ہو چکے ہوں اُن کے اندر عشق اور محبت کی آگ نہ بھڑکا دے اور ایک طرف خدا تعالیٰ کی طرف محبت سے بڑھتے چلے جانے اور دوسری طرف مخلوق کی طرف شفقت سے جھکتے چلے جانے کا بے پناہ جذ بہ نہ پیدا کر دے وہ دنیا کی عملی اصلاح میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔اور قرآن کریم هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ کے الفاظ سے اسی مقصد کے پورا کرنے کا دعویٰ کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ اس کتاب کے مطالعہ سے انسانی فطرت کو وہ ابتدائی دھکا لگتا ہے جو اُ سے عشق کی راہ پر گامزن کر دیتا ہے۔دوسرے معنے ہدایت کے اس ارشاد کے ہوتے ہیں جو نبیوں کے ذریعہ سے انسانوں کو پہنچایا جاتا ہے۔ان معنوں کے رُو سے اس جملہ کے معنے یہ ہوں گے کہ جولوگ اس امر کے شائق ہیں کہ ان کو ان کے خالق و مالک کی طرف سے ہدایت ملتی رہے ان کی خواہش کے پورا کرنے کے بھی اس میں سامان موجود ہیں اور خواہ کسی درجہ کا متقی ہو اس کی راہنمائی کے لیے اس کتاب میں پاک اور مصطفیٰ الہی تعلیم موجود ہے جس سے متقی کے دل کو یہ تسکین حاصل ہوتی ہے کہ وہ صرف اپنی عقل سے کام نہیں لے رہا بلکہ اُسے خدا تعالی کی بتائی ہوئی ہدایت حاصل ہے جس کی مدد سے وہ ہر قدم یقین اور اطمینان سے اٹھا سکتا ہے اور شک وشبہ کی زندگی۔پاک ہو جاتا ہے۔تیسرے معنے ہدایت کے عمل کی مزید توفیق اور فکر کی بلندی کے ہیں۔ان معنوں کے رو سے اس جملہ کے یہ معنے ہیں کہ قرآن کریم میں ایسی قوت ہے کہ جب اس کے کسی حکم پر انسان عمل کرے تو اسے مزید نیکیوں کی توفیق ملتی ہے اور اس کے خیالات میں چلا پیدا ہوتی ہے اور اس کا فکر اور اس کا حوصلہ بڑھتا چلا جاتا ہے اور باریک در بار یک تقوی کی راہیں اس پر کھولی جاتی ہیں۔گویا وہ ایک لامتناہی نیکی اور تقویٰ کی نہ ختم ہونے والی راہوں پر چل پڑتا ہے اور اس کی ترقیات کی کوئی انتہا مقرر نہیں کی جاسکتی۔دوسری جگہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَأَشْهُمْ تَقُوهُمُ (محمد (18) یعنی جو لوگ ہدایت پا جائیں 223