نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 222 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 222

اور چونکہ ایسا زمانہ اس پر کوئی نہ آئے گا یہ کتاب منسوخ نہ ہوگی اور آئندہ سب زمانوں میں اسی کے مطابق لوگوں کو روحانی زندگی بسر کرنی پڑے گی۔یہ مفہوم بھی قرآن کریم کی ایک زبر دست خوبی پر دلالت کرتا ہے اور آج بھی جبکہ قرآن کریم کے نزول پر تیرہ سو سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے دوست تو الگ رہے دشمن بھی اس کے محفوظ ہونے کی شہادت دیتے ہیں۔خلاصہ کلام یہ کہ لاریب فیہ میں صرف اس امر کی تاکید نہیں کی گئی کہ یہ کلام سچا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں۔بلکہ ریب کے معنوں پر نظر کرتے ہوئے اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ (1) اس میں کسی صداقت کا انکار نہیں ہے بلکہ سب صداقتوں کا اقرار کیا گیا ہے اور مذہب کے سب ضروری امور پر سے تہمتوں اور بدگمانیوں کو دور کیا گیا ہے (2) اس میں کوئی ظنی اور شکی بات نہیں بلکہ ہر بات دلیل سے بیان کی گئی ہے (3) یہ کلام محفوظ اور یقینی ہے اور ہمیشہ محفوظ رہے گا (4) اس میں کوئی ایسا امر نہیں جو انسان کے لئے تکلیف اور تباہی کا موجب ہو (5) اس میں سب ضروری امور بیان کر دیئے گئے ہیں اور کوئی ایسا مذہبی ، اخلاقی ، تمدنی ، اقتصادی، سیاسی وغیرہ مسئلہ نہیں جس کے بارہ میں اس میں مکمل تعلیم نہ دی گئی ہو۔ا هُدًى لِلْمُتَّقِينَ۔ان الفاظ میں یہ بتایا کہ (1) قرآن کریم میں وصال الہی کی تڑپ پیدا کرنے کے سامان موجود ہیں۔یعنی ہر فطرت صحیحہ کو اس کی تلاوت کے ذریعہ سے وہ ضروری دھکا لگتا ہے جس کے بغیر والہانہ اور عاشقانہ قدم ارواح اپنے معشوق حقیقی کی طرف نہیں اٹھا سکتیں۔صرف فلسفیانہ خیالات کا پیدا ہونا انسان کے لئے کافی نہیں ہوتا کیونکہ فلسفہ صرف خیالات کو درست کرتا ہے۔ایک نا قابل برداشت جذبہ اس سے پیدا نہیں ہوتا۔مگر عمل کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ فطرۃ انسانی کو ایک ایسا دھکا لگے کہ وہ آپ ہی آپ آگے بڑھتی چلی جائے۔خدمت اور ایثار پر فلسفی زبردست تقریر کر سکتا ہے۔ایک جاہل ماں اس کا لاکھواں حصہ بھی بیان نہیں کر سکتی لیکن اپ بچہ کے لئے جس ایثار اور قربانی کا عملی نمونہ وہ دکھاتی ہے ایک فلسفی بنی نوع انسان کے لئے اس اپنے 222