نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 220 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 220

ہیں جن کو اس خلاف عقل دعویٰ کی تصدیق کی توفیق ملی ہے۔مگر افسوس ہے کہ ان دونوں پادریوں کو خود اپنی مذہبی کتب پر غور سے مطالعہ کرنے کا کبھی موقعہ نہیں ملا۔اگر وہ اپنی مذہبی کتب کا غور سے مطالعہ کرتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ وہ یہ اعتراض قرآن کریم کی صداقت کے خلاف نہیں کر رہے بلکہ خود اپنی کتب کے خلاف کر رہے ہیں چنانچہ مندرجہ ذیل حوالے جو بہت سے حوالوں میں سے چند ہیں ثابت کرتے ہیں کہ بالکل اس قسم کے محاورات بائبل میں بھی استعمال ہوئے ہیں۔امثال 8 / 8 ”میرے منہ کی ساری باتیں صداقت سے ہیں ان میں کچھ ٹیڑھا ترچھا نہیں۔“ یسعیاہ 19 / 45 ”میں خداوند سیچ کہتا ہوں اور راستی کی باتیں فرماتا ہوں۔مطاؤس (1) طیطس 8, 3 یہ بات سچ ہے۔“ مکاشفات 6،21/5 / 22 یہ باتیں سچ اور برحق ہیں۔“ ان حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ اپنی سچائی پر زور دینے کے لئے عہد نامہ قدیم اور جدید دونوں نے بالکل قرآن کریم کے مشابہ الفاظ استعمال کئے ہیں۔اور اگر اس قسم کے محاوروں کے استعمال سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قائل اپنی سچائی کی نسبت شبہ رکھتا ہے تو یہ شبہ بہت زیادہ مصنفین عہد نامہ قدیم اور جدید کے دل میں پایا جاتا تھا۔مگرحق یہ ہے کہ یہ اعتراض نہ بائبل پر پڑتا ہے نہ قرآن کریم پر۔کیونکہ جب شبہات پیش کئے جائیں تو اپنے دعوی کی سچائی پر زور دینے کے لئے ایسے کلمات کا استعمال شک پر نہیں بلکہ یقین پر دلالت کرتا ہے۔اور قرآن کریم میں یہ الفاظ ابتدائی سورتوں میں استعمال نہیں کئے گئے بلکہ ایک لمبے عرصہ کی مخالفت کے بعد استعمال کئے گئے ہیں۔ریب اس شک کو نہیں کہتے جو تحقیق کے راستہ میں محمد ہوتا ہے اور جس پر علمی ترقی کا مدار ہے۔بلکہ ریب اُس شک کو کہتے ہیں جو بلا وجہ اور بدظنی پر مبنی ہو اور ان معنوں کی رُو سے اس میں کوئی ریب نہیں“ کے یہ معنے ہوئے کہ قرآن کریم میں کوئی ایسی بات نہیں جو بدظنی اور صداقت کے انکار پر مشتمل ہو۔یعنی اس میں جس قدر امور ہیں وہ تحقیقی ہیں۔ظنی نہیں۔اور یہ امر ظاہر ہے کہ 220