نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 219 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 219

(3) یہی کامل کتاب ہے (4) وہی کامل کتاب ہے۔مذکورہ بالا معانی اس صورت میں ہیں کہ ذلک مبتد ا ہو اور الکتاب خبر لیکن ایک صورت یہ بھی ہے کہ ذلک کو مبتدا اور الکتاب کو عطف بیان اور لاریب فیہ کو اس کی خبر سمجھا جائے اس صورت میں اس کے معنی یوں ہوں گے (1) یہ یعنی کامل کتاب اپنے اندر کوئی ریب کی بات نہیں رکھتی (2) وہ کامل کتاب (یعنی ہدایت انبیاء) اپنے اندر کوئی ریب کی بات نہیں رکھتی۔لاريب فِيْهِ کے یہ معنے بھی ہیں کہ قرآن کریم کی صداقت کا ایک مزید ثبوت اور اس کی ضرورت حقہ کا ایک زبر دست گواہ یہ ہے کہ اس میں کسی قسم کا شک نہیں۔جولوگ عربی زبان سے ناواقف ہونے کے باوجود قرآن کریم پر اعتراض کرنے میں جلدی کرتے ہیں انہوں نے اس جملہ کے صرف یہی معنے کئے ہیں اور پھر اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ قرآن کریم نے یہ دعویٰ کر کے کہ اس میں کوئی شک نہیں گویا خوداپنے مشکوک ہونے کا اعتراف کیا ہے کیونکہ جب دل میں چور نہ ہو تو انسان کو یہ خیال ہی نہیں ہو سکتا کہ لوگ مجھ پر جھوٹا ہونے کا الزام لگائیں گے ( ویری بحوالہ رومن قرآن ) اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ اس نادان معترض کو یہ بھی معلوم نہیں کہ سورۃ بقرہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی وحی نہیں ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ اپنے دل کے خدشہ کی وجہ سے شک کی نفی کی گئی ہے بلکہ یہ سورۃ تو مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے جبکہ قرآن کریم کو نازل ہوتے ہوئے تیرہ سال سے زائد گذر چکے تھے اور اس عرصہ میں کفار ہزاروں شبہات قرآن کریم کے بارہ میں پیش کر چکے تھے۔پس اس قدر عرصه تک دشمنوں کے اعتراضات لینے کے بعد بھی اگر قرآن کریم کا حق نہیں کہ وہ یہ کہے کہ اس میں کوئی شک کی بات نہیں تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ جو سچا ہو اسے کبھی یہ نہیں کہنا چاہیے کہ وہ سچا ہے ورنہ اس کی سچائی میں شک پڑ جائے گا۔یہ دعویٰ بالبداہت باطل ہے اور کبھی کسی عقلمند نے اسے قبول نہیں کیا۔نہ کبھی کسی صادق نے اس پر عمل کیا ہے۔اور یہ نکتہ صرف رومن قرآن کے مصنف کے ہی ذہن میں آیا ہے اور یورنڈ ویری ہی ایک ایسے شخص 219