نُورِ ہدایت — Page 218
شبہ کا شکار دوزخ میں ڈالا جائے گا۔اسی طرح سورۃ مومن میں آتا ہے كَذلِكَ يُضِلُّ اللهُ مَنْ هُوَ مسْرِفُ مرتاب (المومن (35) یعنی اللہ تعالیٰ اسی طرح گمراہ قرار دیتا ہے یا بلاک کرتا ہے اسے جو حد سے بڑھنے والا یا اپنے عقیدہ اور خیالات کی بنیاد غیر معقول شبہات و وساوس پر رکھنے والا ہو۔پس ریب اس شک کو نہیں کہتے جو علم کی زیادتی کا موجب ہوتا ہو اور تحقیق میں مد ہو بلکہ اس شک کو کہتے ہیں جو تعصب یا بدظنی کی وجہ سے ہو اور سچائی سے محروم کر دے چنانچہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا يَرْتَابَ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتَب وَالْمُؤْمِنُونَ (المدثر (32) ہم نے یہ (مذکورہ بالا) کام اس لئے کیا ہے کہ تا اہل کتاب اور مومن ریب میں نہ پڑیں گویا مومن ریب میں نہیں پڑتا اور اللہ تعالیٰ مومن کو ریب سے بچاتا ہے حدیث میں آتا ہے دَغ مايُرِيبُكَ الى مالا يُرِيبُكَ (ترمذی مطبوعه مطبع مجتبائی جلد دوم صفحه 4 7 ابواب صفة القيامة) یعنی جو چیز تیرے دل میں قلق اور وسوسہ پیدا کرے اسے چھوڑ دے اور اس چیز کو اختیار کر جس کے بارہ میں وسوسہ نہ ہو۔اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ریب اس شک کو کہتے ہیں جس کی بنیاد وسوسہ اور وہم پر ہو اور اس شک کو نہیں کہتے جو تحقیق و تدقیق کے لئے ضروری ہوتا ہے۔هُدًى - الرشاد سیدھے راستہ پر ہونا۔البیان بیان کرنا۔الل لاله کسی امر کی طرف رہبری کرنا ( اقرب) قرآن کریم میں تقویٰ کا جو لفظ استعمال ہوا ہے اس کے بارہ میں حضرت ابو ہریرہ سے کسی نے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ کانٹوں والی جگہ پر سے گزرو تو کیا کرتے ہو؟ اس نے کہا یا اس سے پہلو بچا کر چلا جاتا ہوں یا اس سے پیچھے رہ جاتا ہوں یا آگے نکل جاتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ بس اسی کا نام تقویٰ ہے۔یعنی انسان اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے مقام پر کھڑا نہ ہو اور ہر طرح اس جگہ سے بچنے کی کوشش کرے۔ذلِكَ الْكِتَابُ کے کئی معنے ہو سکتے ہیں (1) یہ وہ کتاب ہے (2) وہ یہ کتاب ہے 218