نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 209 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 209

میں نے ایک معنی ان حروف کے یہ بتائے تھے کہ ان کے عدد کے مطابق سالوں کے واقعات کی طرف ان کے بعد کی سورۃ میں اشارہ کیا گیا ہے۔یہ معنی ایک یہودی عالم نے کئے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس نے ان کو دہرایا۔آپ نے اس کی تردید نہیں کی بلکہ ایک رنگ میں تصدیق کی۔اس لئے یہ معنی بھی قابل غور ضرور ہیں اور تدبر کرنے والوں کے لئے اس تفسیر سے کئی نئے مطالب کی راہ کھل جاتی ہے۔وہ حدیث جس میں اس تشریح کا ذکر آتا ہے یوں ہے۔ابن اسحاق نے اور بخاری نے ( اپنی تاریخ میں ) نیز ابن جریر نے ابن عباس سے اور انہوں نے جابر بن عبد اللہ سے یوں روایت کی ہے کہ ابو یا سر بن اخطب ( رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مشہور یہودی علماء میں سے تھا) کچھ یہود سمیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا جبکہ آپ سورۃ بقرہ کی ابتدائی آیات پڑھ رہے تھے یعنی الهم ذلك الكتبُ لَا رَيْبَ فِيهِ۔وہ یہ سن کر اپنے بھائی حیی بن اخطب کے پاس جبکہ وہ یہود کی ایک جماعت کے پاس بیٹھا ہوا تھا آیا اور کہا تم کو کچھ معلوم ہے میں نے محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو کیا پڑھتے سنا ہے؟ خدا کی قسم میں نے سنا ہے کہ وہ اپنے اوپر نازل ہونے والے کلام میں سے یہ کلام پڑھ رہے تھے الم ذلِكَ الْكِتب اس پر محقیقی نے کہا کیا فی الواقع تم نے یہ کلام سنا ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں اس پر حقیقی اپنے ساتھیوں کو لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ اے محمد ( صلے اللہ علیہ وسلم ) کیا آپ کے متعلق یہ بات نہیں کہی جاتی کہ آپ اپنے اوپر نازل ہونے والے کلام میں سے ایک یہ وحی بھی سناتے ہیں کہ العمر ذلك الكتب۔آپ نے فرمایا یہ درست ہے۔اس نے کہا کیا یہ کلام جبریل نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر نازل کیا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں۔حینی نے کہا کہ آپ سے پہلے بھی انبیاء آئے ہیں ہمیں معلوم نہیں کہ سوائے آپ کے ان میں سے کسی کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی حکومت کی مدت اور اس کی قوم کا عرصہ بیان کیا ہو۔پھر اس نے اپنے ساتھیوں کو مخاطب کیا اور کہا الف کا ایک لام کے تیس اور میم کے چالیس۔یعنی گل اکہتر سال ہوئے۔کیا تم ایسے نبی کے دین کو قبول کرو گے جس کی حکومت کا 209