نُورِ ہدایت — Page 198
جانتے نہیں۔براہین احمدیہ جہار حصص، روحانی خزائن جلد 1 صفحه 607 حاشیه در حاشیہ نمبر 3) وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوامَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَى شَيْطِيْنِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِثْمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُونَ یعنی جب وہ مسلمانوں کے پاس جاتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور جب وہ دوسروں کے پاس جاتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کو قرآن شریف میں منافق کہا گیا ہے اس لئے جب تک کوئی شخص پورے طور پر قرآن مجید پر عمل نہیں کرتا تب تک وہ پورا پورا اسلام میں بھی داخل نہیں ہوتا۔حکم جلد 12 نمبر 1۔مورخہ 2 جنوری 1908ء) ماخوذ از تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : الم۔اِس قسم کے الفاظ قرآن شریف کی اکثر سورتوں میں آتے ہیں اور ان کا نام عربی زبان میں حروف مقطعات ہے اور دراصل یہ مختصر نویسی کا ایک طریق ہے۔انگریزی زبان میں بھی اس کی نظیریں موجود ہیں جیسے ایم۔اے اور بی۔اے اور ایم۔ڈی وغیرہ۔ہر ایک محکمہ اور دفتر کی اصطلاح اختصار الگ الگ ہے۔محدثین نے اس سے کام لیا ہے چنانچہ بخاری کی بجائے لفظ خ لکھتے ہیں۔طب میں بھی اس سے کام لیتے ہیں۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرّحیم کی جگہ بسملہ کہتے ہیں جس سے مقصود ساری آیت ہوتی ہے۔اسی طرح لا حول کے لئے حوقل۔اسی طرح کا ایک الہام حضرت مسیح موعود کو ہوا تھا کہ تلاش جس کے معنے ہیں يَا مَنْ لَا شَرِيكَ لَهُ۔غرض ان مقطعات میں باریک اشارات ہوتے ہیں۔ذلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ۔یہ وہ لکھی ہوئی چیز ہے لکھی ہوئی اس لئے فرمایا کہ جب آیت نازل ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بڑے اہتمام سے اپنے سامنے لکھالیتے۔198