نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 187 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 187

لئے ضروری ہے کہ قلب کا قیام ہو اور اللہ تعالیٰ اس پر نظر کر کے دیکھے کہ در حقیقت وہ حمد بھی کرتا ہے اور کھڑ ابھی ہے۔اور روح بھی کھڑا ہوا حمد کرتا ہے۔جسم ہی نہیں بلکہ روح بھی کھڑا ہے اور جب سُبحان ربی العظیم کہتا ہے تو دیکھے کہ اتنا ہی نہیں کہ صرف عظمت کا اقرار ہی کیا ہے۔نہیں بلکہ ساتھ ہی جھکا بھی ہے اور اس کے ساتھ ہی روح بھی جھک گیا ہے۔پھر تیسری نظر میں خدا کے حضور سجدہ میں گرا ہے اس کی علو شان کو ملاحظہ میں لاکر اس کے ساتھ ہی دیکھے کہ روح بھی الوہیت کے آستانہ پر گرا ہوا ہے۔غرض یہ حالت جب تک پیدا نہ ہولے اس وقت تک مطمئن نہ ہو کیونکہ یقیمُونَ الصَّلوة کے یہی معنی ہیں۔اگر یہ سوال ہو کہ یہ حالت پیدا کیوں کر ہو؟ تو اس کا جواب اتنا ہی ہے کہ نماز پر مداومت کی جاوے اور وساوس اور شبہات سے پریشان نہ ہو۔ابتدائی حالت میں شکوک وشبہات سے ایک جنگ ضرور ہوتی ہے۔اس کا علاج یہی ہے کہ نہ تھکنے والے استقلال اور صبر کے ساتھ لگا ر ہے اور خدا تعالیٰ سے دُعائیں مانگتا ر ہے۔آخر وہ حالت پیدا ہو جاتی ہے جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔یہ تقوی عملی کا ایک جزو ہے۔اور دوسری جزو اس ( تقویٰ) کی حما رَزَقُهُمْ يُنْفِقُونَ ہے۔جو کچھ دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔عام لوگ رزق سے مراد اشیاء خوردنی لیتے ہیں یہ غلط ہے۔جو کچھ قوی کو دیا جاوے وہ بھی رزق ہے۔علوم وفنون وغیرہ معارف حقائق عطا ہوتے ہیں یا جسمانی طور پر معاش مال میں فراخی ہو۔رزق میں حکومت بھی شامل ہے اور اخلاق فاضلہ بھی رزق ہی میں داخل ہیں۔یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو کچھ ہم نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں یعنی روٹی میں سے روٹی دیتے ہیں، علم میں سے علم اور اخلاق میں سے اخلاق۔لیکن اگر کوئی یہاں یہ اعتراض کرے کہ مِمَّا رَزَقْنُهُمْ يُنْفِقُونَ کیوں فرمایا ؟ ہما کے لفظ سے مکمل کی بو آتی ہے۔چاہئے تھا کہ۔ہر چہ داری خرچ کن در راه او اصل بات یہ ہے کہ اس سے بخل ثابت نہیں ہوتا۔قرآن شریف خدائے حکیم کا کلام 187