نُورِ ہدایت — Page 181
پیدا ہو کر خیالات کو پراگندہ کرتے ہیں، باوجود اس کے بھی وہ نما زنہیں چھوڑتے اور نہیں تھکتے اور ہارتے۔بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ چند روز نماز پڑھی اور ظنون فاسدہ اور خیالات پراگندہ دل میں گزرنے لگے۔نماز چھوڑ دی اور ہار کر بیٹھ رہے مگر متقی اپنی ہمت نہیں ہارتا وہ نماز کو کھڑی کرتا نما زگری پڑتی ہے وہ بار بارا سے کھڑی کرتا ہے۔تقویٰ کی حالت میں دو زمانے متقی پر آتے ہیں۔ایک ابتلا کا زمانہ دوسرا اصطفا کا زمانہ۔ابتلا کا زمانہ اس لئے آتا ہے کہ تا تمہیں اپنی قدر و منزلت اور قابلیت کا پتہ مل جائے اور یہ ظاہر ہو جائے کہ کون ہے جو اللہ تعالیٰ پر راستبازوں کی طرح ایمان لاتا ہے۔اس لئے کبھی اس کو وہم اور شکوک آ کر پریشان دل کرتے ہیں کبھی کبھی خدا تعالیٰ ہی کی ذات پر اعتراض اور وہم پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔صادق مومن کو اس مقام پر ڈرنا اور گھبرانا نہ چاہئے بلکہ آگے ہی قدم رکھے۔کسی نے کہا ہے : عشق اول سرکش و خونی بود تا گریز دہر کہ بیرونی بود شیطان پلید کا کام ہے کہ وہ راضی نہیں ہوتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے منکر نہ کرالے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سے روگردان نہ کرلے۔وہ وساوس پر وساوس ڈالتا رہتا ہے لاکھوں کروڑوں انسان انہیں وسوسوں میں مبتلا ہو کر ہلاک ہورہے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب کر لیں پھر دیکھا جائے گا۔باوجود اس کے کہ انسان کو اس بات کا علم نہیں کہ ایک سانس کے بعد دوسرا سانس آئے گا بھی یا نہیں لیکن شیطان ایسا دلیر کرتا ہے کہ وہ بڑی بڑی جھوٹی امیدیں دیتا اور سبز باغ دکھاتا ہے۔شیطان کا یہ پہلا سبق ہوتا ہے مگرمتقی بہادر ہوتا ہے اس کو ایک جرات دی جاتی ہے کہ وہ ہر وسوسہ کا مقابلہ کرتا ہے اس لئے يُقِيمُونَ الصَّلوةَ فرمایا یعنی اس درجہ میں وہ ہارتے اور تھکتے نہیں اور ابتدا میں انس اور ذوق اور شوق کا نہ ہونا اُن کو بے دل نہیں کرتا وہ اسی بے ذوقی اور بے لطفی میں بھی نماز پڑھتے رہتے ہیں یہاں تک کہ سب وساوس اور اوہام دور ہو جاتے ہیں۔شیطان کو شکست ملتی اور مومن کامیاب ہو جاتا ہے۔غرض منتقی کا یہ زمانہ ستی کا زمانہ نہیں ہوتا بلکہ میدان میں کھڑے رہنے کا زمانہ ہوتا ہے۔وساوس کا 181