نُورِ ہدایت — Page 180
کے ایمان کو ایمان سمجھتا ہے جو زیادہ ضد نہیں کرتے اور قرائن مرجحہ کو دیکھ کر اور علامات صدق پا کر صادق کو قبول کر لیتے ہیں اور صادق کا کلام صادق کی راستبازی صادق کی استقامت اور خود صادق کا منہ ان کے نزدیک اس کے صدق پر گواہ ہوتا ہے۔مبارک وہ جن کو مردم شناسی کی عقل دی جاتی ہے۔( آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد 5 فحہ 336 تا339) متقی کی حالت میں چونکہ رویت باری تعالیٰ اور مکالمات و مکاشفات کے مراتب حاصل نہیں ہوتے۔اس لئے اس کو اول ایمان بالغیب ہی کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ تکلف کے طور پر ایمانی درجہ ہوتا ہے کیونکہ قرائن قویہ کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی ہستی پر ایمان لاتا ہے جو بَيْنَ الشَّاكِ وَالْيَقِينِ ہوتا ہے۔ی ایمان بالغیب متقی کے پہلے درجہ کی حالت اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑی وقعت رکھتی ہے۔حدیث صحیح میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا کہ جانتے ہو سب سے بڑھ کر ایمان کس کا ہے۔صحابہ نے عرض کی کہ حضور آپ کا ہی ہے۔آپ نے فرمایا کہ میرا کس طرح ہو سکتا ہے میں تو ہر روز جبریل کو دیکھتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نشانات کو ہر وقت دیکھتا ہوں۔پھر صحابہ نے عرض کی کہ کیا ہمارا ایمان؟ پھر آپ نے فرمایا کہ تمہارا ایمان کس طرح تم بھی تو نشانات دیکھتے ہو۔آخر خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جولوگ صد با سال کے میرے بعد آئیں گے ان کا ایمان عجیب ہے کیونکہ وہ کوئی بھی ایسا نشان نہیں دیکھتے جیسے تم دیکھتے ہو مگر پھر بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں۔غرض خدا تعالیٰ متقی کو اگر وہ اسی ابتدائی درجہ میں مرجاوے تو اسی زمرہ میں داخل کر لیتا ہے اور اسی دفتر میں اس کا نام لکھ دیتا ہے باوجود یکہ وہ مکالمات اور مخاطبات الہیہ کو نہیں جانتا اور اس لذت اور نعمت سے ابھی اس نے کچھ بھی نہیں پایا لیکن پھر بھی وہ ایسی قوت دکھاتا ہے کہ نہ صرف اللہ تعالیٰ پر ایمان ہی رکھتا ہے بلکہ اس ایمان کو اپنے عمل سے بھی ثابت کرتا ہے یعنی يُقِيمُونَ الصَّلوةَ تقویٰ کی اس حالت میں نمازوں میں بھی وسوسے ہوتے ہیں اور قسم قسم کے وہم اور شکوک 180