نُورِ ہدایت — Page 179
سے ایمان لے آتا ہے اور عوام کالانعام باقی رہ جاتے ہیں تو ان پر حجت پوری کرنے کے لئے یا ان پر عذاب نازل کرنے کیلئے نشان ظاہر ہوتے ہیں مگر ان نشانوں سے وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو پہلے ایمان لاچکے تھے اور بعد میں ایمان لانے والے بہت کم ہوتے ہیں کیونکہ ہر روزہ تکذیب سے ان کے دل سخت ہو جاتے ہیں اور اپنی مشہور کردہ راؤں کو وہ بدل نہیں سکتے آخر اسی کفر اور انکار میں واصل جہنم ہوتے ہیں۔مجھے دلی خواہش ہے اور میں دُعا کرتا ہوں کہ آپ کو یہ بات سمجھ آجاوے کہ در حقیقت ایمان کے مفہوم کے لئے یہ بات ضروری ہے کہ پوشیدہ چیزوں کو مان لیا جائے اور جب ایک چیز کی حقیقت ہر طرح سے کھل جائے یا ایک وافر حصہ اس کا کھل جائے تو پھر اس کا مان لینا ایمان میں داخل نہیں۔مثلاً اب جو دن کا وقت ہے اگر میں یہ کہوں کہ میں اس بات پر ایمان لاتا ہوں کہ اب دن ہے رات نہیں ہے تو میرے اس ماننے میں کیا خوبی ہوگی اور اس ماننے میں مجھے دوسروں پر کیا زیادت ہے؟ سعید آدمی کی پہلی نشانی یہی ہے کہ اس بابرکت بات کو سمجھ لے کہ ایمان کس چیز کو کہا جاتا ہے کیونکہ جس قدر ابتدائے دنیا سے لوگ انبیاء کی مخالفت کرتے آئے ہیں ان کی عقلوں پر یہی پردہ پڑا ہوا تھا کہ وہ ایمان کی حقیقت کو نہیں سمجھتے تھے اور چاہتے تھے کہ جب تک دوسرے امور مشہورہ محسوسہ کی طرح انبیاء کی نبوت اور ان کی تعلیم کھل نہ جائے تب تک قبول کرنا مناسب نہیں اور وہ بیوقوف یہ خیال نہیں کرتے تھے کہ کھلی ہوئی چیز کو ماننا ایمان میں کیوں کر داخل ہوگا وہ تو ہندسہ اور حساب کی طرح ایک علم ہوا نہ کہ ایمان۔پس یہی حجاب تھا کہ جس کی وجہ سے ابو جہل اور ابولہب وغیرہ اوائل میں ایمان لانے سے محروم رہے اور پھر جب اپنی تکذیب میں پختہ ہو گئے اور مخالفانہ راؤں پر اصرار کر چکے اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے کھلے کھلے نشان ظاہر ہوئے تب انہوں نے کہا کہ اب قبول کرنے سے مرنا بہتر ہے۔غرض نظر دقیق سے صادق کے صدق کو شناخت کرنا سعیدوں کا کام ہے اور نشان طلب کرنا نہایت منحوس طریق اور اشقیا کا شیوہ ہے جس کی وجہ سے کروڑ با منکر ہیزم جہنم ہو چکے ہیں۔خدائے تعالیٰ اپنی سنت کو نہیں بدلتا وہ جیسا کہ اس نے فرما دیا ہے انہی 179