نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 178 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 178

نشان دیا نہیں جائے گا۔میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ بالطبع ہر ایک شخص کے دل میں اس جگہ یہ سوال پیدا ہوگا کہ بغیر کسی نشان کے حق اور باطل میں انسان کیوں کر فرق کر سکتا ہے اور اگر بغیر نشان دیکھنے کے کسی کو منجانب اللہ قبول کیا جائے تو ممکن ہے کہ اس قبول کرنے میں دھوکا ہو۔اس کا جواب وہی ہے جو میں لکھ چکا ہوں کہ خدائے تعالیٰ نے ایمان کا ثواب اکثر اسی امر سے مشروط کر رکھا ہے کہ نشان دیکھنے سے پہلے ایمان ہو اور حق اور باطل میں فرق کرنے کے لئے یہ کافی ہے کہ چند قرائن جو وجہ تصدیق ہوسکیں اپنے ہاتھ میں ہوں اور تصدیق کا پلہ تکذیب کے پلّہ سے بھاری ہو۔مثلاً حضرت صدیق اکبر ابو بکر رضی اللہ عنہ جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تو انہوں نے کوئی معجزہ طلب نہیں کیا اور جب پوچھا گیا کہ کیوں ایمان لائے تو بیان کیا کہ میرے پر محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا امین ہونا ثابت ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ انہوں نے کبھی کسی انسان کی نسبت بھی جھوٹ کو استعمال نہیں کیا چہ جائیکہ خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھیں! ایسا ہی اپنے اپنے مذاق پر ہر یک صحابی ایک، ایک اخلاقی یا تعلیمی فضیلت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھ کر اور اپنی نظیر دقیق سے اس کو وجہ صداقت ٹھہرا کر ایمان لائے تھے اور ان میں سے کسی نے بھی نشان نہیں مانگا تھا اور کاذب اور صادق میں فرق کرنے کے لئے ان کی نگاہوں میں یہ کافی تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تقویٰ کے اعلیٰ مراتب پر ہیں۔اپنے منصب کے اظہار میں بڑی شجاعت اور استقامت رکھتے ہیں اور جس تعلیم کو لائے ہیں وہ دوسری سب تعلیموں سے صاف تر اور پاک تر اور سراسر نور ہے اور تمام اخلاق حمیدہ میں۔سابے نظیر ہیں اور لہی جوش ان میں اعلیٰ درجہ کے پائے جاتے ہیں اور صداقت ان کے چہرہ پر برس رہی ہے۔پس انہیں باتوں کو دیکھ کر انہوں نے قبول کر لیا کہ وہ در حقیقت خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔اس جگہ یہ نہ سمجھا جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزات ظاہر نہیں ہوئے بلکہ تمام انبیاء سے زیادہ ظاہر ہوئے لیکن عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ اوائل میں کھلے کھلے معجزات اور نشان مخفی رہتے ہیں تا صادقوں کا صدق اور کا ذبوں کا کذب پرکھا جائے۔یہ زمانہ ابتلا کا ہوتا ہے اور اس میں کوئی کھلا کھلا نشان ظاہر نہیں ہوتا۔پھر جب ایک گروہ صافی دلوں کا اپنی نظر دقیق 178