نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 161 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 161

اور علت غائی کے کمال کی طرف اشارہ کرتا ہے یہ فقرہ کہ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ یعنی یہ کتاب ہدایت کامل متقین کے لئے ہے اور جہاں تک انسانی سرشت کے لئے زیادہ سے زیادہ ہدایت ہو سکے وہ اس کتاب کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 136 ، 137 حاشیہ) اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کی عِلتِ غائی بیان کرنے میں فرمایا ہے ھدی للْمُتَّقِينَ۔یہ نہیں فرمایا که هُدًى تِلْفَاسِقِينَ یا هُدًى لِّلْكَافِرِينَ ابتدائی تقویٰ جس کے حصول سے مشتقی کا لفظ انسان پر صادق آ سکتا ہے وہ ایک فطرتی حصہ ہے کہ جو سعیدوں کی خلقت میں رکھا گیا ہے اور ربوبیت اولیٰ اس کی مربی اور وجود بخش ہے جس سے متقی کا پہلا تولد ہے مگر وہ اندرونی نور جو روح القدس سے تعبیر کیا گیا ہے وہ عبودیت خالصہ تامہ اور ربوبیت کامله مستجمعہ کے پورے جوڑ واتصال سے بطرز ثُمَّ انْشَأْنَهُ خَلْقًا أَخَرَ (المؤمنون 15) کے پیدا ہوتا ہے اور یہ ربوبیتِ ثانیہ ہے جس سے مشتقی تولد ثانی پاتا ہے اور ملکوتی مقام پر پہنچتا ہے اور اس کے بعد ربوبیت ثالثہ کا درجہ ہے جو خلق جدید سے موسوم ہے جس سے متقی لاہوتی مقام پر پہنچتا ہے اور تولد ثالث پاتا ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 558 تا560 حاشیہ) اور ان آیات میں جو معرفت کا نکتہ خفی ہے وہ یہ ہے کہ آیات ممدوحہ بالا میں خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ الم ذَلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ یعنی یہ وہ کتاب ہے جو خدا تعالیٰ کے علم سے ظہور پذیر ہوتی ہے اور چونکہ اس کا علم جہل اور نسیان سے پاک ہے اس لئے یہ کتاب ہر ایک شک وشبہ سے خالی ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ کا علم انسانوں کی تکمیل کے لئے اپنے اندر ایک کامل طاقت رکھتا ہے اس لئے یہ کتاب متقین کے لئے ایک کامل ہدایت ہے اور اُن کو اس مقام تک پہنچاتی ہے جو انسانی فطرت کی ترقیات کے لئے آخری مقام ہے اور خدا ان آیات میں فرماتا ہے کہ متقی وہ ہیں کہ جو پوشیدہ خدا پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو قائم کرتے ہیں اور اپنے مالوں میں سے کچھ خدا کی راہ میں دیتے ہیں اور قرآن شریف اور پہلی 161