نُورِ ہدایت — Page 154
اکثر صورتوں میں ایسی راہ اختیار کرتا ہے کہ بندوں سے ان کے اعمال کے مطابق رحمت کا سلوک نہیں کرتا۔مزدور کی مزدوری مارنے والے لوگ، حق سے کم ادا کرنے والے لوگ سارے وہ لوگ ہیں جو ضالین کے زمرہ میں شمار ہوتے ہیں۔مغربی قوموں نے جو Exploitation یعنی استحصال سے کام لیا ہے، یہ رحیمیت کا عملی انکار ہے۔تمام دنیا میں Capitalists نے جو Exploitation کی ہے اس کے نتیجہ میں پھر آگے اشتراکیت نے جنم لیا ہے۔یہ وہی ضاآئین کی راہ ہے جو رحیمیت کے انکار کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔ادنی قوموں سے محنتیں لیں، کام لیے اور ان کو ان کے بدلے پورے نہیں دیئے اور وہ ان غریب قوموں کا جو جائز حق کھا گئے یہی استحصال ہے۔اسی کے نتیجہ میں پھر دنیا میں بڑی بڑی تباہیاں آئی ہیں اور آفتیں ٹوٹی ہیں۔پس ضالین کی راہ جو عیسائیت نے اختیار کی وہ بھی صرف نظریاتی نہ رہی بلکہ عملی شکل میں ڈھل گئی۔اقتصادی نظام کی شکل میں بھی ڈھل گئی۔معاشرہ میں بھی ڈھل گئی۔تمدن میں بھی ڈھل گئی۔ملوکیت میں بھی ڈھل گئی۔ہر چیز پر اثر انداز ہوگئی۔تو یہ جو رحیمیت کی راہ کو چھوڑ کر خدا تک پہنچیں گے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہی ضالین کہلائیں گے اور ان رستوں کو چھوڑنے کے نتیجہ میں دنیا اور آخرت میں سخت بد انجام کو پہنچیں گے۔حقیقت یہ ہے کہ اس کی مثال ویسی ہی ہے جیسے بجلی ایک قوت کا نام ہے۔اس کے بھی سفر کے رستے مختلف ہو سکتے ہیں۔بلب یا کسی اور برقی آلہ کی راہ سے ہو کر بھی وہ اپنے دوسرے حصہ تک پہنچ جاتی ہے جو اس کا انجام ہے جہاں جا کر وہ Annihilate ہو جاتی ہے اور براہِ راست بھی بغیر مقررہ راستے کے وہ دوسرے کنارے تک پہنچ سکتی ہے۔لیکن اس دوسری صورت میں سوائے بھسم کر دینے والی آگ کے اس کے سفر کا ماحصل کچھ بھی نہیں ہوتا۔پس اگر وہ بلب یا مشین یا پنکھے یا ریفریجریٹر کے رستے سے ہونے کی بجائے براہ راست وہاں تک پہنچتی ہے تو جل کر بھسم ہو جاتی ہے۔اس کے سوا اس کا کوئی انجام نہیں ہوتا۔154