نُورِ ہدایت — Page 138
ہے کہ روحانی دنیا میں پہلی حالت دوسری حالت کی پیدا کرنے والی ہوتی ہے۔اس لئے پہلی حالت ایک جہت سے ماں کہلاتی ہے اور بعد کی حالت اولاد کہلاتی ہے۔اسی نسبت سے سورۃ فاتحہ کو اُم القرآن بھی کہا گیا اور بوجہ اس کے کہ وہ خود قرآن بھی ہے اسے قرآن بھی کہا گیا۔انسانوں کے متعلق بھی ایسے ہی تغیرات کے مواقع پر اس قسم کے تشبیہی الفاظ استعمال کر لئے جاتے ہیں۔چنانچہ سورہ تحریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مومنوں کی مثال امرأَة فرعون اور مريم بنت عمران سے دی جاسکتی ہے اور جن مومنوں کی مثال مریم بنت عمران سے دی ہے ان کے متعلق آخر میں فرمایا ہے فَنَفَخْنَا فِیهِ مِنْ رُّوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَتِ رَبَّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَنِتِينَ (سوره تحریم (13) ہم نے اس کے اندر اپنا کلام پھونکا اور وہ اپنے رب کے کلام پر اور اس کی کتابوں پر ایمان لائی اور آخر وہ ایک فرمانبردار مرد کی طرح ہو گئی۔یعنی جو لوگ مریمی صفت ہوتے ہیں جب ترقی کرتے کرتے کلام الہی کے مورد ہو جاتے ہیں تو مسیحی نفس بن جاتے ہیں۔غرض سورہ فاتحہ کا نام اتم القرآن اور ام الکتاب بھی رکھنا اور اسے قرآن عظیم بھی کہنا اسلامی اصطلاحات پر ایک لطیف روشنی ڈالتا ہے اور ان لوگوں کے لئے اس میں ہدایت ہے جو اس مسئلہ کو نہیں سمجھ سکے کہ امت محمدیہ کے ایک شخص کا نام کس طرح مریم بھی رکھا گیا اور عیسی بھی۔اگر سورہ فاتحہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کی اتم بھی فرماتے ہیں اور قرآن بھی۔تو ایک سچے مسلمان کے لئے اس امر کا سمجھنا کیا مشکل ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک شخص کو مریم بھی فرماتا ہے اور عیسی بھی۔اس کی وہ حالت جب وہ خدا کے سامنے اس زمانہ میں ایک مسیح کے ظہور کے لیے چلا رہی تھی مریمی حالت تھی اور اس کی وجہ سے وہ مریم کہلایا۔جس طرح سورۃ فاتحه اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیم کی دعا کی وجہ سے جو ایک ہدایت نامہ کے لئے پکار رہی تھی اُم القرآن اور ام الکتاب کہلائی۔لیکن جب اس فرد کامل کی دعاسنی گئی اور خدا تعالیٰ نے اسی کو دنیا کے لئے مسیحی نفس عطا کر کے مبعوث فرما دیا تو وہ عیسی کہلایا۔جس طرح اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی پکار نے بلند ہو کر جب قرآن کریم کو دنیا کی طرف کھینچا اور یہ دُعا 138