نُورِ ہدایت — Page 129
اس پر لگا دی گئی ہیں۔فلسفیوں کے عقیدہ کی بنیا د صرف تجر بہ پر تھی کہ باوجود کوشش کے بعض لوگ گناہ سے بچ نہیں سکتے۔لیکن ڈاکٹر فرائڈ نے اس مسئلہ کو علمی مسئلہ بنا دیا ہے۔اس کا خیال ہے کہ چونکہ انسان کی تعلیم کا زمانہ اس کے ارادہ کے زمانہ سے پہلے شروع ہوتا ہے یعنی بچپن سے۔اور ارادہ اور اختیار بلوغ کے وقت پیدا ہوتا ہے۔اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ اس کا ارادہ آزاد ہے۔بلکہ جس چیز کو ہم ارادہ کہتے ہیں درحقیقت وہ وہی میلان ہے جو بچپن کے اثرات کے نتیجہ میں اس کے اندر پیدا ہو گیا ہے۔انسان اپنے افعال کو با ارادہ اور خیالات کو آزاد سمجھتا ہے لیکن درحقیقت وہ صرف بچپن کے تاثرات کے نتائج ہیں۔اور چونکہ وہ اس کے نفس کا جزو بن گئے ہیں اس لئے وہ اسے بیرونی اثر خیال نہیں کرتا بلکہ اپنا ارادہ سمجھتا ہے۔ڈاکٹر فرائڈ کے یہ خیالات نئے نہیں۔اسلام میں ان کی سند ملتی ہے جیسے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔مگر آبَوَاهُ يُهوِدَانِهِ اويُنَقِّرَانِهِ ( بخاری کتاب الجنائز باب ما قيل في اولاد المشرکین ) اس کے ماں باپ اسے یہودی یا مسیحی بنا دیتے ہیں۔یعنی ان کی تربیت کے اثر سے وہ بڑا ہونے سے پہلے ان کے غلط خیالات کو قبول کر لیتا ہے اور بے سمجھے بوجھے ان کے راستہ پر چل کھڑا ہوتا ہے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچہ کی پیدائش پر اس کے کان میں اذان کہنے کا حکم دے کر بچپن کے اثرات کی وسعت اور اہمیت کو ظاہر کیا ہے۔ملِكِ يَوْمِ الدِّین اور اِيَّاكَ نَعْبُدُ میں قرآن کریم نے ان خیالات کے غلط حصہ کی تردید کی ہے کیونکہ جبر کی صورت میں جزا سزا ایک بے معنی فعل ہو جاتا ہے اور اياك نَعْبُدُ کہہ کر بتایا ہے کہ انسانی ارادہ اپنی ذات میں آزاد ہے۔گو ایک حد تک وہ محدود ہو لیکن اس کے اس حد تک آزاد ہونے میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ ہدایت کو دیکھ کر اپنے لئے ایک نیا راستہ اختیار کرلے۔مثلاً گو انسان برے اثرات کے تابع ہو لیکن اگر اللہ تعالیٰ کی صفات پر وہ غور کرے تو ايَّاكَ نَعْبُدُ کی آواز اس کے اندر سے پیدا ہوسکتی ہے اور ہوتی ہے اور اس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ڈاکٹر فرائڈ اور ان کے شاگرد اس کا کیا جواب دے سکتے ہیں کہ حالات 129