نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 126 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 126

وہ اسے شناخت کرتا ہے۔اور اس کے ذکر کے ذریعہ سے وہ اس کے قریب ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کے دل کی آنکھیں اسے دیکھ لیتی ہیں۔ان آیات میں سلوک کے اس نکتہ کو بیان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ رَبُّ الْعَالَمِینَ رَحْمَن رَحِيم مُلِكِ يَوْمِ الدِّین کی صفات پر جب انسان غور کرتا ہے تو اس کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی محبت شدید طور پر اس کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے تب وہ روحانی طور پر اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف اور اس کی محبت سے مغلوب ہو کر بے اختیار چلا اٹھتا ہے کہ اے رب میں تیری ہی عبادت کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں۔پس اس طرح ضمائر کو بدل کر اس مضمون کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ قرآن کریم میں بتائی ہوئی صفات پر غور کرنے سے انسان کو اللہ تعالیٰ کی ملاقات حاصل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات بندہ کے سامنے آ جاتی ہے۔اس آیت میں نَعْبُدُ پہلے ہے اور نَسْتَعِين بعد میں۔بعض لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی عبادت کی توفیق تو اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہی حاصل ہوسکتی ہے۔پھر نعبد کو پہلے کیوں رکھا؟ نَسْتَعِین پہلے چاہئے تھا۔اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک عبادت بھی اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہوتی ہے لیکن اس جگہ اعانت کا ذکر نہیں بلکہ استعانت کا ذکر ہے یعنی مدد مانگنے کا۔اور اس میں کیا شک ہے کہ جب بندہ کے دل میں عبودیت اور عبادت کا خیال پیدا ہو گا اس کے بعد ہی وہ اللہ تعالیٰ سے دُعا مانگنے کا خیال کرے گا۔جو عبادت کی طرف راغب ہی نہ ہو وہ مدد کیوں طلب کرے گا۔پس گو اللہ تعالیٰ کے فضل اور اعانت کے بغیر عبادت کی توفیق نہیں ملتی لیکن استعانت یعنی بندہ کا اللہ تعالیٰ کے دروازہ پر جھکنا عبادت کا خیال آنے کے بعد ہی پیدا ہوتا ہے۔اس وجہ سے نعبد کو پہلے اور نستعین کو بعد میں رکھا گیا ہے۔دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ ارادہ بندہ کی طرف سے ہوتا ہے اور عمل کی توفیق اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔اگر ارادہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو تو انسان کے اعمال اضطراری اعمال ہو جائیں۔پس اس آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ جب بندہ کے دل میں عبادت کا خیال پیدا ہو۔126